مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,411 PKR Bitcoin $81,401 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,411 PKR Bitcoin $81,401
قومی

پاکستان ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا بانی رکن بن گیا

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 3 منٹ
پاکستان ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا بانی رکن بن گیا
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) 2026 کے دوران پاکستان نے مصنوعی ذہانت کی جامع اور منصفانہ عالمی حکمرانی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جس سے چین کے صدر شی جن پنگ نے کلیدی خطاب کیا۔

پاکستان کا ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن میں شمولیت کا اعلان

اس کانفرنس کے دوران ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جس کے بانی معاہدے پر پاکستان سمیت دیگر بانی ممالک نے دستخط کیے۔ پاکستان کا اس اہم عالمی تنظیم میں بانی رکن کے طور پر شامل ہونا، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک کلیدی پیش رفت ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں چین نے دنیا کا پہلا کمرشل برین چپ امپلانٹ نصب کر دیا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔

ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کا عزم

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق، ملک ایسے عالمی نظام کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو انسان دوست، جامع اور مساوی اصولوں پر مبنی ہو۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی استعداد کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے ڈیجیٹل خلیج کو کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد دنیا کے تمام ممالک تک مساوی طور پر پہنچنے چاہئیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ہدایت کے پیش نظر پاکستان بین الاقوامی شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

عالمی تعاون اور پالیسی سازی میں پاکستان کا کلیدی کردار

ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام ایسے نازک وقت میں عمل میں آیا ہے جب عالمی سطح پر AI کی ریگولیشن، تحقیق اور اخلاقی معیارات کے لیے مشترکہ نظام وضع کرنے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ پاکستان کا بارہا یہ مطالبہ رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی AI پالیسی سازی میں مساوی نمائندگی ملنی چاہیے۔ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کر کے مصنوعی ذہانت کو پائیدار ترقی اور اقتصادی نمو کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس طرح پاکستان کی چین کو گوشت برآمدات بڑھانے کے لیے چینی سرمایہ کاری جیسے منصوبے معاشی خوشحالی کا باعث بن رہے ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں