مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,411 PKR Bitcoin $81,401 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,411 PKR Bitcoin $81,401
قومی

چین نے دنیا کا پہلا کمرشل برین چپ امپلانٹ نصب کر دیا

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

شنگھائی (نمائندہ خصوصی)۔ میڈیکل سائنس اور نیورو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چین نے دنیا کا پہلا باقاعدہ منظور شدہ برین-کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) امپلانٹیشن آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ منفرد سرجری چین کے شہر شنگھائی میں واقع فوڈان یونیورسٹی سے منسلک مشہور ‘ہواشان ہسپتال’ میں انجام دی گئی، جہاں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ (Spinal Cord Injury) کے باعث دونوں ہاتھوں کی حرکت اور پکڑنے کی صلاحیت سے محروم مریض کے دماغ میں جدید ترین ‘نیورل الیکٹرانک اپرچونٹی’ (NEO) سسٹم نصب کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، آپریشن کے فوراً بعد کیے گئے ٹیسٹوں میں آلے نے دماغ کے بیرونی حصے سے انتہائی مستحکم اور اعلیٰ معیار کے سگنلز وصول کرنا شروع کر دیے ہیں اور مریض کی حالت بالکل نارمل اور مستحکم ہے۔ جیسے اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت پر پاکستان اور تاجکستان کا مشن عالمی سطح پر جاری ہے، چین کی یہ کامیابی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

تاریخی پیش رفت میں چین کی برتری

یہ تاریخی آپریشن اس لحاظ سے بھی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ چین نے اس ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال میں امریکی کمپنی ‘نیورالنک’ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایلون مسک کی نیورالنک چپس ابھی تک تجرباتی مراحل اور انسانی آزمائشوں تک محدود ہیں، جبکہ چین کے نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن نے رواں سال مارچ میں ہی ‘NEO’ سسٹم کو تجارتی بنیادوں پر عام مریضوں کے علاج کے لیے باقاعدہ منظور کر لیا تھا، جس کے بعد یہ دنیا کا پہلا قانونی طور پر منظور شدہ کمرشل برین امپلانٹ بن گیا ہے۔ اس سسٹم کو شنگھائی کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی ‘Neuracle’ نے سنگھوا یونیورسٹی کے ماہرین کے اشتراک سے تیار کیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا محفوظ ہونا ہے۔ جہاں امریکی نیورالنک چپ کی باریک سوئیاں براہ راست دماغ کے نازک حصوں کے اندر پیوست کی جاتی ہیں، وہیں چینی NEO سسٹم کو دماغ کی حفاظتی جھلی کے اوپر نصب کیا جاتا ہے، جس سے دماغی خلیات کو نقصان پہنچنے یا انفیکشن کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟

یہ جدید نظام بنیادی طور پر مریض کی سوچ کو براہ راست حرکت میں تبدیل کرتا ہے۔ جب مفلوج مریض اپنے ہاتھ کو ہلانے یا کسی چیز کو پکڑنے کے بارے میں سوچتا ہے، تو دماغ میں نصب یہ چپ ان لہروں کو فوری طور پر ریکارڈ کر کے وائرلیس طریقے سے بیرونی کمپیوٹر سسٹم کو بھیجتی ہے۔ وہاں موجود جدید الگورتھم ان سگنلز کو ڈی کوڈ کر کے مریض کے ہاتھ پر پہنائے گئے نیومیٹک روبوٹک دستانے کو کمانڈ بھیجتے ہیں، جس کے نتیجے میں دستانہ حرکت کرتا ہے اور مریض کا ہاتھ چیزوں کو پکڑنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مریض کو فوری مدد فراہم کرتی ہے، بلکہ مسلسل استعمال سے یہ دماغ کے مردہ اعصابی راستوں کو دوبارہ فعال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ہدایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسی جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس انقلابی ٹیکنالوجی کو عام شہریوں کی پہنچ میں لانے کے لیے شنگھائی حکومت نے اسے مقامی ہیلتھ انشورنس اسکیم میں بھی شامل کر لیا ہے، جس سے اب ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں اور فالج کا شکار لاکھوں مریضوں کے لیے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کی امید پیدا ہو گئی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ملکہ کوہسار مری میں پہلی گرین الیکٹرک بس سروس کا آغاز ایک نئی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں