سید عمران احمد شاہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی نئی ڈائریکٹر کی ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی نو تعینات کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ بدھ کو وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر نے انیتا ہرش کو پاکستان میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر خوش آمدید کہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان میں پاکستان نے 17 ارب ڈالر کا سرکاری قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا کے تناظر میں سماجی تحفظ کے اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور حکومت پاکستان اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان غذائی تحفظ، غذائیت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں جاری دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بینظیر نشوونما پروگرام میں توسیع پر تبادلہ خیال
ملاقات کے دوران، وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے بینظیر نشوونما پروگرام کی تین سالہ توسیع کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس پروگرام نے نہ صرف ماں اور بچے کی غذائیت کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ بچوں میں نشوونما کی کمی (Stunting) کی شرح میں نمایاں بہتری لانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان پہلے ہی ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم جاری کردی ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
تعاون کے نئے دائرہ کار کا تعین
فریقین نے وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے ماتحت دیگر متعلقہ اداروں تک ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس سلسلے میں غذائیت، غذائی تحفظ، سکول میلز پروگرام کے نفاذ، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور دیگر سماجی تحفظ کے اہم اقدامات میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کمزور اور مستحق طبقات کے لیے ایک موثر، جامع اور پائیدار سماجی تحفظ کا نظام تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رہے گا، اسی طرح جیسے پی ٹی اے سروے: کوئی موبائل کمپنی سروس معیار پر پورا نہ اتری جیسے معاملات میں حکومتی نگرانی کا عمل جاری ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کا عزم
اس موقع پر انیتا ہرش نے حکومت پاکستان کے ساتھ غذائیت، غذائی تحفظ اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام ان اہم شعبوں میں اپنی شراکت داری کو وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔
