مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,310 PKR Bitcoin $80,127 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,310 PKR Bitcoin $80,127
قومی

وزیراعظم شہباز شریف ایران و ترکیہ کا دورہ، مشرق وسطیٰ امن کی کوششیں

📅 ✍️ ⏱ 7 منٹ
وزیراعظم شہباز شریف ایران و ترکیہ کا دورہ، مشرق وسطیٰ امن کی کوششیں
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے میدان میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندراپی نے جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف 3 جولائی سے 5 جولائی 2026 تک ایران اور ترکیہ کا انتہائی اہم اور حساس دورہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، وزیراعظم کے اس دورے کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ پڑوسی ملک ایران ہوگا۔ جہاں وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔ یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد خطے کی سیاست میں ایک بڑا بھونچال آ گیا تھا۔

غم کی اس گھڑی میں برادر اسلامی ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایرانی قیادت اور وہاں کے عوام سے پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے دلی تعزیت کا اظہار کریں گے۔ ترجمان طاہر اندراپی نے واضح کیا کہ:

"پاکستان اس گہرے دکھ اور آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رحلت امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے اور وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے دیرینہ، تاریخی اور ثقافتی رشتوں کا مظہر ہے۔”

اس اعلیٰ سطحی وفد میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، کابینہ کے اہم اراکین اور دیگر سینیئر حکام بھی شامل ہوں گے، جو ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

سفارتی ذرائع: مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کا مصالحتی کردار

وزیراعظم کا یہ دورہ محض تعزیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ سفارتی حلقوں کے مطابق اس کے پسِ پردہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو رکوانے کی ایک بڑی کوشش شامل ہے۔ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائیوں نے دنیا بھر کی معیشت اور خاص طور پر خلیج فارس میں جہاز رانی کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

اس نازک موڑ پر پاکستان نے فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں "اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” (Islamabad MoU) پر دستخط ہوئے اور عارضی جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ تاہم، حال ہی میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوبارہ ابھرنے کے بعد یہ امن معاہدہ خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امن کوششوں کو سراہا تھا۔ اب اس دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ایرانی قیادت پر زور دیں گے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ اسلام آباد امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

ترکیہ کا دورہ: صدر طیب اردوان سے ملاقات اور اقتصادی ایجنڈا

ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف استنبول، ترکیہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات ہمیشہ سے مثالی رہے ہیں، اور اس دورے کا مقصد ان دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داری میں بدلنا ہے۔

ترکیہ کے دورے کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:

  • دوطرفہ دفاعی و علاقائی سیکیورٹی پر مشاورت: دونوں رہنما مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور خطے کے ممالک کے مابین ایک نیا "علاقائی سیکیورٹی ڈھانچہ” تشکیل دینے پر بات چیت کریں گے، جس کی تجویز ایران نے بھی دی ہے۔
  • تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ: پاکستان اور ترکیہ کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے نئے معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
  • پاکستان بزنس کانفرنس: وزیراعظم استنبول میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد ترکیہ کے بڑے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا ہے۔

استنبول میں ہونے والی اس بزنس کانفرنس میں پاکستان کے درج ذیل اہم شعبوں کو ترک سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا:

شعبہ (Sector)ترک سرمایہ کاروں کے لیے مواقعخصوصی اقتصادی زونز (SEZs)سی پیک کے تحت قائم زونز میں ترک کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ اور سہولیات کی فراہمی۔توانائی (Energy)گرین انرجی، سولر اور ونڈ پاور کے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری۔انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)پاکستانی آئی ٹی ماہرین اور ترک ٹیک کمپنیوں کے درمیان ڈیجیٹل شراکت داری۔نجکاری (Privatisation)پاکستان کے سرکاری اداروں (جیسے پی آئی اے اور دیگر) کی نجکاری کے عمل میں ترک کمپنیوں کی شمولیت۔

خطے پر اثرات اور ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی متحرک سفارتی پوزیشن میں ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان ایران کا معتمد دوست ہے، وہیں دوسری طرف ترکیہ کے ساتھ اس کے سٹریٹجک تعلقات ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے متبادل کے طور پر ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد، ایران کی نئی قیادت کے ساتھ ذاتی اور سفارتی روابط استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندراپی نے اپنی پریس کانفرنس کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے ان دونوں برادر ممالک کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی رشتوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اور وزیراعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی اقتصادی بقا بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں