پاکستان کے مرکزی حکومتی قرضوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ کم از کم پندرہ برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی- ‘وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مالی سال 2025-26 کے اختتام پر سامنے آنے والے اعداد و شمار ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے مرکزی حکومتی قرضوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ کم از کم پندرہ برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جو حکومت کی مالیاتی اصلاحات اور قرضوں کے بہتر انتظام کا نتیجہ ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق موجودہ مالی سال میں مرکزی حکومت کے قرضوں میں صرف 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مالی سال 2023 میں یہی شرح تقریباً 23 فیصد تھی۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کا مظہر ہے۔
97 سے 100 کھرب روپے قرض کا تاثر درست نہیں، حکومت کی وضاحت
مشیر خزانہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان کا قرضہ 97 سے 100 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار مختلف اقسام کی ذمہ داریوں کو یکجا کرکے پیش کیے جا رہے ہیں، جبکہ مرکزی حکومتی قرضہ تقریباً 81.9 کھرب روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی قرض ادائیگی کی صلاحیت کا اندازہ صرف مجموعی قرض سے نہیں بلکہ قرض اور مجموعی قومی پیداوار (Debt-to-GDP Ratio) کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔
قرض برائے جی ڈی پی تناسب میں نمایاں کمی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
- مالی سال 2020 میں قرض برائے جی ڈی پی تناسب تقریباً 76 فیصد تھا۔
- مالی سال 2026 میں یہ کم ہو کر تقریباً 68 فیصد رہ گیا۔
- بیرونی قرضوں کا تناسب بھی 28 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 21 فیصد پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق بیرونی قرضوں میں کمی سے روپے پر دباؤ کم ہوتا ہے اور عالمی مالیاتی جھٹکوں سے معیشت نسبتاً محفوظ رہتی ہے۔
قرضوں کی مدت بڑھنے سے ادائیگی کا دباؤ کم
حکومت نے صرف قرضوں کی مقدار ہی نہیں بلکہ ان کی ساخت بھی تبدیل کی ہے۔
- اوسط مقامی قرض کی مدت 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال ہو گئی۔
- اس اقدام سے مختصر مدت میں بڑے پیمانے پر قرض واپس کرنے کا دباؤ کم ہوگا اور حکومت کو مالی منصوبہ بندی کے لیے زیادہ گنجائش ملے گی۔
4.7 کھرب روپے مہنگے قرضے قبل از وقت ادا
حکومت کے مطابق مالی سال کے دوران 4.7 کھرب روپے کے مہنگے قرضے قبل از وقت ختم کیے گئے، جن میں:
- 2.47 کھرب روپے اسٹیٹ بینک کے ذمہ واجب الادا قرض
- 2.3 کھرب روپے مارکیٹ سے حاصل کردہ قرض
شامل ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کی گئی۔
سودی ادائیگیوں میں تقریباً دو کھرب روپے کمی
ایک اور اہم پیش رفت سودی ادائیگیوں میں کمی ہے۔
- مالی سال 2023 میں سود کی مد میں اخراجات تقریباً 8.89 کھرب روپے تھے۔
- موجودہ مالی سال میں یہ کم ہو کر 6.94 کھرب روپے رہ گئے۔
یعنی تقریباً 22 فیصد یا لگ بھگ دو کھرب روپے کی کمی آئی۔
اسی طرح مجموعی وفاقی آمدنی کا وہ حصہ جو صرف سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا، 64 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 40 فیصد رہ گیا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی شعبہ بہتر
سرکاری دعوے کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
- زرمبادلہ کے ذخائر، جو کبھی صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے، اب تقریباً تین ماہ کی درآمدات کا احاطہ کر رہے ہیں۔
- حکومت کا کہنا ہے کہ ذخائر میں اضافے کا بڑا حصہ غیر قرض ذرائع سے آیا، جس سے ذخائر کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے سرپلس تک
مالی سال 2022 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جو ملکی تاریخ کے بڑے خساروں میں شمار ہوتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کے بعد مسلسل دو مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جس سے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہوا ہے۔
مسلسل تین سال پرائمری سرپلس
حکومت کا کہنا ہے کہ مسلسل تین برس سے پرائمری مالیاتی سرپلس حاصل کیا جا رہا ہے، یعنی حکومت سود کی ادائیگیوں کو چھوڑ کر اپنے دیگر اخراجات سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہی ہے، جس سے نئے قرض لینے کی رفتار میں بھی کمی آئی ہے۔
تجزیہ
یہ تمام اعداد و شمار حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ پاکستان کی مالیاتی سمت میں بہتری آ رہی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل جانچ کا انحصار مستقبل میں جاری ہونے والے اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ، آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر آزاد مالیاتی اداروں کی رپورٹس پر ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر قرضوں کی رفتار میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہتا ہے تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب عوامی سطح پر اس کے حقیقی اثرات کا انحصار مہنگائی، روزگار، سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی نمو میں پائیدار بہتری پر ہوگا۔
(نوٹ: یہ رپورٹ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور سرکاری مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔)
