ڈاکٹر فاروق ستار کا مضبوط بلدیاتی نظام کے لیے بڑا مطالبہ
اسلام آباد: وفاقی بجٹ برائے سال 2026-27 پر قومی اسمبلی میں جاری گرما گرم بحث کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ملک کی معاشی ترقی کو مضبوط اور خود مختار بلدیاتی نظام سے مشروط کرتے ہوئے 28ویں آئینی ترمیم کی فوری منظوری کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں حقیقی معاشی استحکام اور بجٹ اقدامات، پائیدار ترقی اور نچلی سطح پر عوامی مسائل کا واحد حل مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے میں ہی مضمر ہے۔
مقامی حکومتوں کی مالی و انتظامی خود مختاری کا مطالبہ
قومی اسمبلی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کی تفصیلات ریڈیو پاکستان نے بھی نشر کیں، ڈاکٹر فاروق ستار نے اس موقف کو سختی سے دہرایا کہ جب تک ملک کے شہری اور بلدیاتی اداروں کو آئینی، مالی اور انتظامی طور پر مکمل خود مختاری فراہم نہیں کی جاتی، تب تک گلی محلوں اور نچلی سطح پر عوام کے بنیادی مسائل کا حل ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیوریج و صفائی ستھرائی کا نظام، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پبلک ٹرانسپورٹ، بنیادی صحت، تعلیم اور شہری منصوبہ بندی جیسے تمام اہم ترین شعبے براہ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام مسائل کو صرف اور صرف ایک مضبوط بلدیاتی ڈھانچے کے تحت ہی بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔
18ویں ترمیم اور اختیارات کی نچلی سطح پر عدم منتقلی
ڈان نیوز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر فاروق ستار نے بجٹ اجلاس کے دوران اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ تاریخی 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق سے اختیارات صوبوں کو تو منتقل کر دیے گئے، لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومتوں نے یہ اختیارات آگے اضلاع، شہروں اور نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کے ارتکاز کی اسی پالیسی کی وجہ سے پاکستان کے بڑے شہری مراکز، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں بلدیاتی مسائل روز بروز سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں اور شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
28ویں آئینی ترمیم اور سیاسی مستقبل کا منظر نامہ
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کے اس تفصیلی بیان اور موقف سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران ان کی جماعت محض بجٹ کے روایتی مالیاتی اعداد و شمار اور ٹیکسوں پر ہی بات نہیں کرے گی، بلکہ ملک کے مجموعی انتظامی ڈھانچے، شہری حقوق اور بلدیاتی اداروں کے آئینی تحفظ جیسے بنیادی نوعیت کے معاملات کو بھی پوری طاقت سے اٹھائے گی۔ سیاسی مبصرین اور پارلیمانی حلقوں کا ماننا ہے، جیسا کہ بی بی سی اردو کی تجزیاتی رپورٹوں میں بھی اشارہ ملتا ہے، کہ ایم کیو ایم کی جانب سے 28ویں آئینی ترمیم کا یہ دیرینہ مطالبہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین ہونے والے اہم پارلیمانی مذاکرات کا ایک مرکزی نکتہ بن سکتا ہے۔
