عطا اللہ تارڑ کی پاکستان افریقہ ثقافتی فورم قائم کرنے کی تجویز
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے یومِ افریقہ کے موقع پر پاکستان اور افریقی ممالک کے مابین عوامی روابط کو مستحکم بنانے اور دونوں جانب کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی فورم قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
ثقافتی تبادلوں اور موسیقی کا فروغ
اسلام آباد میں افریقی سفرا اور ہائی کمشنرز کی شرکت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ ایسے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنا چاہتا ہے جو دونوں خطوں کی ثقافتی دولت کو دنیا بھر میں روشناس کرا سکیں۔ انہوں نے معزز مہمانوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ افریقی ثقافت، موسیقی اور ان کے ساتھ جڑی عظیم روایات کی یاد میں ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا جائے۔
عطا اللہ تارڑ نے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان موسیقی کے وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی ثقافتی روایات نسل در نسل محفوظ چلی آ رہی ہیں، جو باہمی سیکھنے کے لیے گراں قدر مواقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم افریقی ثقافت، موسیقی اور ان قدیم قبائل کے بارے میں مزید جاننے کے خواہشمند ہیں جو آج بھی افریقہ کے وسیع رقبے پر بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں، جن کی تاریخ اور طرزِ زندگی کو بی بی سی اردو نے بھی اپنی رپورٹس میں اجاگر کیا ہے۔
مشترکہ تاریخ اور یکساں چیلنجز
وفاقی وزیر اطلاعات نے یومِ افریقہ کو تنوع، ثقافت اور اقدار کا جشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن افریقی اقوام کے اپنے چیلنجوں پر قابو پانے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے رواں سال کو پانی کی پائیداری کا سال قرار دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کی شناخت اور تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری ثقافت میں کہا جاتا ہے کہ ‘پانی ہی زندگی ہے’ اور پاکستانی عوام اپنی شناخت اور اقدار کا سراغ وادی سندھ کی قدیم تہذیب سے لگاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے یومِ افریقہ کوئی اجنبی تہوار نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ تاریخ اور یکساں امنگوں کی یاد دہانی ہے۔ کئی افریقی ممالک کی طرح، پاکستان بھی نوآبادیاتی راج کے خاتمے کے بعد آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوا تھا اور اس مشترکہ تاریخی تجربے نے دونوں خطوں کے مابین دوستی اور یکجتی کے دیرینہ رشتے کی بنیاد رکھی جس کی کوریج قومی نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان پر بھی کی جاتی ہے۔
پاکستان کی ‘انگیج افریقہ’ پالیسی
عطا اللہ تارڑ نے براعظم افریقہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد کے روابط ‘انگیج افریقہ’ پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ مصر سے لے کر جنوبی افریقہ اور سینیگال سے ایتھوپیا تک، پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم افریقہ کو محض سفارت کاری میں ایک شراکت دار کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کی وسیع تر خارجہ پالیسی کے ایک مرکزی ستون کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستان تجارت، تعلیم، استعداد کار میں اضافے، صحت اور دفاع کے شعبوں میں افریقی ممالک کے ساتھ باہمی فائدے کے لیے مسلسل تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے نیلسی منڈیلا کے پرامن افریقہ کے وژن کا بھی اعادہ کیا اور آخر میں ‘پاکستان افریقہ دوستی زندہ باد’ کا نعرہ لگایا۔
