وفاقی بجٹ 2026-27: وفاق، صوبے، NFC، صوبائی سرپلس اور ترقیاتی کٹوتیوں کا مکمل جائزہ
نمائندہ خصوصی
وفاقی بجٹ 2026-27: وفاق، صوبے، NFC، صوبائی سرپلس اور ترقیاتی کٹوتیوں کا مکمل جائزہ
اسلام آباد، دوست نیوز خصوصی رپورٹ:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں وفاق اور صوبوں کے مالی تعلقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس بجٹ کا بڑا حصہ صرف وفاقی آمدن اور اخراجات کا معاملہ نہیں بلکہ صوبوں کے حصے، NFC Award، صوبائی سرپلس، صوبائی ترقیاتی منصوبوں، قومی سلامتی، IMF اہداف اور عوامی خدمات کے درمیان ایک پیچیدہ مالیاتی توازن سے جڑا ہوا ہے۔ حکومت نے بجٹ تقریر میں Cooperative Federalism یعنی وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون کو قومی مالیاتی نظم کا اہم اصول قرار دیا، جبکہ Federal Divisible Pool اور NFC کے تحت صوبوں کے آئینی حصے کا ذکر بھی کیا گیا۔
بجٹ 2026-27 کا اصل مالیاتی ڈھانچہ اس بات پر کھڑا ہے کہ وفاق اپنی آمدن میں اضافہ کرے، اخراجات کو قابو میں رکھے، قرض اور سود کے دباؤ کو manage کرے، دفاعی ضروریات پوری کرے، ترقیاتی بجٹ کو محدود رکھے، اور ساتھ ہی صوبوں سے اتنا سرپلس حاصل ہو کہ مجموعی مالی خسارہ IMF پروگرام کے مطابق قابو میں رہے۔ Reuters کے مطابق بجٹ میں مجموعی مالی خسارہ 5.23 کھرب روپے یعنی تقریباً 3.6 فیصد GDP تک رکھنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس میں صوبوں سے 1.79 کھرب روپے سرپلس کی توقع بھی شامل ہے۔
وفاق اور صوبوں کا مالی تعلق: بجٹ کی خاموش مگر فیصلہ کن بنیاد
پاکستان کا وفاقی بجٹ بظاہر قومی اسمبلی میں پیش ہوتا ہے، مگر اس کی کامیابی کا بڑا حصہ صوبوں کے رویے، اخراجات اور سرپلس پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وفاقی ٹیکس آمدن کا بڑا حصہ NFC Award کے تحت صوبوں کو منتقل ہوتا ہے۔ صوبے صحت، تعلیم، زراعت، پولیس، بلدیات، مقامی سڑکوں، پانی، ماحولیات، سماجی خدمات اور ضلعی ترقی کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے اگر وفاق مالیاتی نظم چاہتا ہے تو اسے صوبوں کے ساتھ مسلسل coordination کی ضرورت ہوتی ہے۔
بجٹ تقریر میں وفاق نے cooperative federalism کو اسی تناظر میں پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاق اور صوبے ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ مشترکہ قومی مالیاتی نظام کے حصے ہیں۔ اگر وفاق خسارے میں ہو اور صوبے اخراجات بڑھاتے رہیں تو مجموعی مالی خسارہ قابو میں نہیں آتا۔ اگر صوبے سرپلس دیتے ہیں مگر مقامی خدمات متاثر ہوتی ہیں تو عوامی سطح پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہی بجٹ کا مشکل توازن ہے۔
NFC Award: صوبائی خودمختاری کا مالی ستون
NFC Award پاکستان کے وفاقی نظام کا بنیادی مالیاتی ستون ہے۔ اس کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں سے صوبوں کو ان کا آئینی حصہ دیا جاتا ہے۔ Finance Division کے ایک سرکاری بیان کے مطابق تقریباً 14 کھرب روپے federal tax revenue اور 5 کھرب روپے non-tax revenue کے فریم ورک میں لگ بھگ 8.2 کھرب روپے NFC Award کے تحت صوبوں کو منتقل ہوتے ہیں۔
NFC کا مقصد صوبوں کو مالیاتی خودمختاری دینا ہے تاکہ وہ اپنے عوام کے لیے صحت، تعلیم، زراعت، local infrastructure اور دیگر خدمات پر خرچ کر سکیں۔ لیکن وفاقی حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرضوں پر سود، دفاع، پنشن، سبسڈیز، قومی ترقیاتی منصوبے اور IMF commitments وفاق پر رہتے ہیں، جبکہ آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر بجٹ میں یہ بحث دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں کا توازن درست ہے یا نہیں۔
صوبائی سرپلس: IMF اہداف کا اہم حصہ
بجٹ 2026-27 میں صوبائی سرپلس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ Reuters کے مطابق وفاقی بجٹ میں مجموعی خسارہ کم دکھانے اور IMF پروگرام کو track پر رکھنے کے لیے صوبوں سے 1.79 کھرب روپے سرپلس کی توقع رکھی گئی ہے۔
صوبائی سرپلس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے اپنی آمدن اور وفاقی transfers کے مقابلے میں اخراجات کو اس طرح محدود رکھیں کہ ان کے پاس بچت ہو، جو قومی fiscal balance میں مدد دے۔ کاغذ پر یہ مالیاتی discipline کی علامت ہے، مگر عملی طور پر یہ صوبوں کے لیے مشکل فیصلہ ہے، کیونکہ انہیں صحت، تعلیم، زراعت، امن و امان، مقامی سڑکوں، پانی، سیلابی نقصانات، بلدیاتی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ بھی کرنا ہوتا ہے۔
صوبوں کے لیے اصل مشکل: سرپلس دیں یا ترقی کریں؟
صوبائی حکومتوں کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ وہ سرپلس بچائیں یا عوامی خدمات پر خرچ کریں۔ اگر صوبہ زیادہ سرپلس دے گا تو وفاقی مالیاتی حساب بہتر ہو گا، IMF اہداف پورے ہوں گے، اور macroeconomic stability کا پیغام جائے گا۔ لیکن اگر اسی وجہ سے صوبائی ترقیاتی منصوبے، اسکول، اسپتال، مقامی سڑکیں، آبپاشی، صفائی، پینے کا پانی، اور district-level services متاثر ہوئیں تو عوام صوبائی حکومتوں سے سوال کرے گی۔
یہی وجہ ہے کہ صوبائی سرپلس ایک technical budget item نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی چیلنج بھی ہے۔ صوبے چاہتے ہیں کہ انہیں اپنا آئینی حصہ مکمل ملے، اور وہ اپنی priority کے مطابق خرچ کریں۔ وفاق چاہتا ہے کہ مجموعی مالیاتی خسارہ قابو میں رہے۔ دونوں پوزیشنز اپنی جگہ قابل فہم ہیں، مگر قومی مفاد کے لیے ایک واضح، شفاف اور عملی framework ضروری ہے۔
صوبائی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی: مقامی سطح پر اثرات
Reuters کی reporting کے مطابق دفاعی اخراجات اور IMF اہداف کے دباؤ میں صوبائی ترقیاتی منصوبوں کو بھی cut back کیا گیا۔ یہ فیصلہ مالیاتی discipline کے لیے ضروری سمجھا گیا، مگر اس کا اثر مقامی سطح پر محسوس ہو سکتا ہے۔ صوبائی ترقیاتی بجٹ سے ضلعی سڑکیں، چھوٹے ڈیم، اسکولوں کی مرمت، صحت مراکز، پینے کے پانی، نکاسی آب، زرعی سکیمیں، کھیلوں کے میدان، بلدیاتی سہولتیں، اور مقامی infrastructure منصوبے چلتے ہیں۔
جب صوبائی development کم ہوتا ہے تو اس کا اثر فوراً نظر نہیں آتا، مگر چند مہینوں بعد ترقیاتی کام سست پڑ جاتے ہیں، ٹھیکیداروں کی ادائیگیاں رکتی ہیں، مقامی روزگار کم ہوتا ہے، اور district-level services متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے صوبائی کٹوتی صرف numbers کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی سہولت کا مسئلہ بھی ہے۔
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان: مختلف ضروریات، مختلف دباؤ
پاکستان کے چاروں صوبوں کی ضروریات ایک جیسی نہیں۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں تعلیم، صحت، شہری transport، زراعت، صنعت، پانی، ماحولیات اور مقامی حکومتوں کا وسیع نظام ہے۔ سندھ میں کراچی جیسے معاشی مرکز کے ساتھ دیہی غربت، پانی، urban flooding، صحت، تعلیم، transport اور ساحلی خطرات اہم ہیں۔ خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں، پہاڑی انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، سیاحت اور سرحدی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا، مگر آبادی کے لحاظ سے کم اور پسماندہ صوبہ ہے، جہاں سڑک، پانی، صحت، تعلیم، معدنیات، ساحلی ترقی اور امن و امان بنیادی مسائل ہیں۔
اس لیے جب وفاق صوبوں سے سرپلس یا اخراجات میں restraint کی توقع رکھتا ہے تو ہر صوبے کا دباؤ مختلف ہوتا ہے۔ بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے لیے ترقیاتی کٹوتی کا اثر پنجاب یا سندھ کے شہری علاقوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی لیے fiscal coordination کو صوبائی realities کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
صوبوں کا حصہ اور وفاق کا دباؤ
وفاق کا موقف یہ رہا ہے کہ صوبوں کو NFC کے تحت بڑا حصہ ملتا ہے، لیکن وفاق کے پاس قرض، دفاع، پنشن، سبسڈی، وفاقی اداروں، قومی ترقیاتی منصوبوں اور خارجی ادائیگیوں کا دباؤ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق صوبوں سے national fiscal goals میں تعاون مانگتا ہے۔ Dawn کے live budget updates کے مطابق NFC Award کے تحت صوبوں کو FY26 میں 8.206 کھرب روپے federal transfers budget کیے گئے تھے، جبکہ پہلے تین quarters میں یہ transfers 10.7 فیصد بڑھ کر 5.6308 کھرب روپے تک پہنچے؛ province-wise shares میں پنجاب 4.076 کھرب، سندھ 2.0438 کھرب، خیبر پختونخوا 1.3428 کھرب، اور بلوچستان 743.2 ارب روپے بتائے گئے۔
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ صوبائی finances وفاقی transfers پر بہت زیادہ depend کرتے ہیں۔ اگر وفاقی FBR target پورا نہ ہو، تو صوبوں کو transfers متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر صوبوں کو کم رقم ملے تو services متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے وفاقی revenue performance صوبائی governance کو بھی براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
ٹیکس وصولی: وفاقی مسئلہ، صوبائی اثر
ایف بی آر کا بڑا tax target صرف وفاق کے لیے نہیں، صوبوں کے لیے بھی اہم ہے۔ جب federal divisible pool بڑا ہوتا ہے تو صوبوں کا حصہ بھی بڑھتا ہے۔ اگر FBR target miss کرتا ہے تو صوبوں کو کم transfers مل سکتے ہیں، جس سے صوبائی budgets، ADPs اور social services متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے ٹیکس اصلاحات کا فائدہ صرف وفاق کو نہیں بلکہ صوبوں کو بھی ہو گا۔
دوسری طرف صوبوں کی اپنی revenue mobilisation بھی اہم ہے۔ زرعی آمدن ٹیکس، property tax، services sales tax، stamp duties، motor vehicle taxes، provincial excise، mining royalties اور local revenues صوبوں کے اپنے وسائل ہیں۔ اگر صوبے اپنی revenue base بہتر کریں تو وہ وفاقی transfers پر کم dependent ہوں گے اور اپنے ترقیاتی منصوبے بہتر انداز میں چلا سکیں گے۔
زرعی آمدن، رئیل اسٹیٹ اور صوبائی ٹیکسز
پاکستان میں زرعی آمدن اور property taxation ہمیشہ حساس موضوع رہے ہیں، کیونکہ یہ زیادہ تر صوبائی دائرہ کار سے جڑے ہیں۔ IMF اور معاشی ماہرین اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کو broad-based taxation کی ضرورت ہے، جس میں agriculture، retail، real estate اور services کے under-taxed segments کو بھی منصفانہ انداز میں شامل کیا جائے۔ مگر صوبائی سطح پر political economy بہت پیچیدہ ہے۔ زمیندار، property holders، traders اور local pressure groups ٹیکس اصلاحات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اگر صوبے اپنی آمدن بہتر نہیں کرتے تو وفاق پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اگر وفاق موجودہ taxpayers پر مزید بوجھ ڈالتا ہے تو تنخواہ دار اور formal businesses ناراض ہوتے ہیں۔ اس لیے صوبائی ٹیکس اصلاحات پاکستان کے مجموعی fiscal future کے لیے ناگزیر ہیں۔
ترقیاتی ترجیحات: وفاقی منصوبے یا صوبائی ضروریات؟
PSDP اور صوبائی ADPs کے درمیان ایک اہم فرق ہے۔ وفاق قومی نوعیت کے بڑے منصوبے بناتا ہے: موٹرویز، ریلوے، ڈیمز، توانائی، strategic corridors، universities، special regions، national programmes۔ صوبے مقامی سطح کے منصوبے کرتے ہیں: district roads، hospitals، schools، irrigation، water supply، local transport، urban development۔ دونوں ضروری ہیں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب وفاقی اور صوبائی منصوبے ایک دوسرے سے disconnected ہوں۔ مثال کے طور پر وفاق موٹروے بنا دے مگر صوبائی link roads نہ بنیں؛ صوبہ زرعی سکیم دے مگر وفاقی water policy weak ہو؛ وفاق social protection دے مگر صوبائی health delivery کمزور ہو۔ اس لیے cooperative federalism کا مطلب صرف سرپلس نہیں بلکہ planning coordination بھی ہے۔
قومی سلامتی اور صوبائی fiscal space
بجٹ 2026-27 میں دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا، اور Reuters کے مطابق یہ اضافہ regional uncertainty کے تناظر میں کیا گیا، جبکہ صوبوں کے ساتھ fiscal space pooling پر بھی بات ہوئی۔ قومی سلامتی یقیناً وفاقی ذمہ داری ہے، مگر اس کا مالی اثر پورے federation پر آتا ہے۔ اگر دفاعی ضروریات کے لیے صوبائی development compress ہوتی ہے تو اس پر سیاسی بحث لازم ہے۔
حکومت کو اس معاملے میں transparency دکھانی ہو گی کہ صوبوں سے تعاون کس framework کے تحت لیا جا رہا ہے، صوبائی خدمات پر کیا اثر ہو گا، اور قومی سلامتی و عوامی ترقی کے درمیان توازن کیسے قائم رہے گا۔
سیاسی اثرات: بجٹ کے بعد صوبائی debate
اس بجٹ کے بعد صوبائی اسمبلیوں میں بھی بحث ہو گی کہ وفاقی transfers کتنے ملیں گے، صوبائی ADP کتنا ہو گا، health/education spending کیا ہو گی، سرپلس کیسے پیدا ہو گا، اور کون سے منصوبے delayed یا cut ہوں گے۔ اگر صوبائی حکومتیں محسوس کریں کہ وفاق نے زیادہ بوجھ ان پر ڈال دیا ہے تو سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ اگر وفاق کو لگے کہ صوبے agreed surplus نہیں دے رہے تو IMF اور fiscal targets پر دباؤ آ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے بعد صرف قومی اسمبلی نہیں بلکہ صوبائی بجٹ بھی بہت اہم ہوں گے۔ اصل تصویر تب مکمل ہو گی جب چاروں صوبے اپنے بجٹ پیش کریں گے اور واضح ہو گا کہ وہ سرپلس، development اور services میں کیا توازن بناتے ہیں۔
عام شہری پر اثر
عام شہری کے لیے وفاق-صوبہ مالی تعلقات شاید technical موضوع لگتا ہو، مگر اس کا اثر براہِ راست اس کی زندگی پر پڑتا ہے۔ اسکول صوبہ چلاتا ہے، بنیادی صحت مرکز صوبہ چلاتا ہے، پولیس صوبہ چلاتا ہے، local roads صوبہ بناتا ہے، صفائی اور پانی اکثر صوبائی/بلدیاتی نظام کے ذریعے آتے ہیں، زراعت کی extension services صوبائی ہوتی ہیں۔ اگر صوبائی بجٹ پر دباؤ ہو گا تو شہری کو service delivery میں فرق محسوس ہو گا۔
اس لیے NFC، صوبائی سرپلس اور ADP کٹوتی کو عام آدمی سے دور کا موضوع نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ضلع میں سڑک بنے گی یا نہیں، اسپتال میں دوا آئے گی یا نہیں، اسکول کی عمارت مکمل ہو گی یا نہیں، اور مقامی ترقیاتی منصوبہ چل سکے گا یا نہیں۔
Cooperative Federalism: نعرہ نہیں، عملی نظام چاہیے
بجٹ تقریر میں cooperative federalism کا ذکر مثبت ہے، مگر پاکستان کو اسے practical system میں بدلنا ہو گا۔ اس کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں: وفاق اور صوبوں کے درمیان سالانہ نہیں بلکہ مسلسل fiscal dialogue؛ shared development priorities؛ transparent transfer projections؛ provincial revenue reforms؛ social sector performance indicators؛ disaster and climate coordination؛ اور public reporting کہ صوبائی سرپلس کہاں سے آیا اور اس کا services پر کیا اثر پڑا۔
اگر cooperative federalism صرف تقریر کا حصہ رہا تو وفاق-صوبہ tension برقرار رہے گی۔ اگر اسے institutional framework میں بدلا گیا تو پاکستان مالیاتی نظم اور عوامی خدمات دونوں بہتر کر سکتا ہے۔
حتمی تجزیہ: وفاقی بجٹ کی کامیابی صوبوں کے بغیر ممکن نہیں
وفاقی بجٹ 2026-27 کا NFC، صوبوں اور صوبائی سرپلس والا باب یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا بجٹ صرف وفاقی حکومت کا document نہیں بلکہ پورے federation کا مالیاتی معاہدہ ہے۔ وفاق کو IMF اہداف، قرض، دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور مالی خسارے کا دباؤ ہے، جبکہ صوبوں کو صحت، تعلیم، زراعت، مقامی ترقی، امن و امان اور عوامی خدمات کا دباؤ ہے۔ دونوں کی ضروریات حقیقی ہیں، مگر وسائل محدود ہیں۔
صوبوں سے 1.79 کھرب روپے سرپلس کی توقع بجٹ کے fiscal framework کا اہم حصہ ہے۔ اگر صوبے یہ سرپلس دے دیتے ہیں تو مجموعی مالی خسارہ قابو میں رہے گا، مگر صوبائی ترقیاتی اور سماجی خدمات پر دباؤ آ سکتا ہے۔ اگر صوبے سرپلس نہ دیں تو وفاقی خسارہ، IMF targets اور macro stability متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی اس بجٹ کا سب سے بڑا federal balancing act ہے۔
پاکستان کو اب ایک نئے fiscal compact کی ضرورت ہے، جس میں وفاق اور صوبے صرف resources کی تقسیم نہیں بلکہ responsibilities کی تقسیم، revenue mobilisation، development priorities، social sector outcomes اور national stability پر بھی اتفاق کریں۔ NFC صوبائی خودمختاری کا بنیادی ستون ہے، مگر اسی کے ساتھ صوبائی revenue effort، fiscal discipline اور service delivery بھی ضروری ہے۔
اگر بجٹ 2026-27 cooperative federalism کو عملی شکل دیتا ہے تو وفاقی مالیاتی نظم اور صوبائی عوامی خدمات دونوں بہتر ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر وفاق اور صوبے صرف ایک دوسرے پر بوجھ ڈالنے کی سیاست کرتے رہے تو بجٹ کے targets بھی دباؤ میں آئیں گے اور عوام کو بھی مطلوبہ سہولت نہیں ملے گی۔ پاکستان کی معاشی بحالی کا راستہ اسلام آباد سے شروع ضرور ہوتا ہے، مگر لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، گلگت، مظفرآباد اور ہر ضلع تک پہنچے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
متعلقہ ذرائع اور مزید مطالعہ
بجٹ اور مالیاتی پالیسی سے متعلق سرکاری معلومات کے لیے وزارت خزانہ پاکستان، IMF پروگرام کی تفصیلات کے لیے IMF Pakistan، اور مزید معاشی تجزیوں کے لیے دوست نیوز بزنس، قومی خبریں اور فیچر رپورٹ ملاحظہ کریں۔
