حکومت نے جے اے اے سی کے 37 مطالبات پورے کر دیے، مہاجر نشستوں کا معاملہ آئینی ہے، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے نکتے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کئی ماہ تک جے اے اے سی کے ساتھ مذاکرات میں مصروف رہی اور بات چیت کے ذریعے فیصلے کیے گئے۔ ان کے مطابق صرف مہاجر نشستوں کا معاملہ باقی ہے جو آئینی اور قانونی پیچیدگیوں سے متعلق ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایکشن کمیٹی 2023 میں بجلی ٹیرف اور آٹے کی سبسڈی سے متعلق مطالبات کے ساتھ سامنے آئی تھی۔ حکومت پہلے ہی بجلی چار روپے فی یونٹ، سبسڈائزڈ آٹا اور خطے کے لیے 23 ارب روپے کے ریلیف پیکج سمیت بڑے مطالبات پورے کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین سے مذاکرات کے بعد 23 ارب روپے کا پیکج منظور کیا گیا اور بعد ازاں 38 میں سے 37 مطالبات پر تحریری معاہدہ بھی طے پایا۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ صرف مہاجر نشستوں کا مسئلہ حل طلب ہے۔ یہ نشستیں مقبوضہ جموں و کشمیر سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں اور انہیں انتظامی حکم کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت، آئینی جائزے، پارلیمانی غور و خوض اور قانونی فورمز سمیت کئی آپشنز تجویز کیے، تاہم انہیں مسترد کر دیا گیا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں، قانون ساز اسمبلی اور دیگر آئینی فورمز نے اس موقف کی حمایت کی ہے کہ مہاجر نمائندگی آئینی ڈھانچے کا حصہ رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر آنے والے انتخابات سے قبل عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں، تاہم حکومت قانون کے مطابق آزاد کشمیر میں امن و استحکام برقرار رکھے گی اور کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت جاری رکھے گی۔
