جام کمال خان کی استنبول میں ترک ہم منصب سے اہم ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے استنبول میں اقتصادی و تجارتی تعاون کی تنظیم (کومسیک) کے 42ویں اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے ملاقات کی اور باہمی تجارت کے فروغ، پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے اور پاکستان میں ترک سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وزرا نے باہمی اقتصادی اور تجارتی مفادات سے متعلق امور پر مفصل گفتگو کی اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اہم نکات
- وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے استنبول میں کومسیک کے 42ویں اجلاس کے دوران ترک ہم منصب سے ملاقات کی۔
- ترک وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے پاکستانی آموں کی درآمدات میں اضافے کی یقین دہانی کرائی۔
- کراچی انڈسٹریل پارک میں ترک کاروباری اداروں کے لیے ایک ہزار ایکڑ اراضی مختص کرنے کا ذکر کیا گیا۔
- ترک حکام کا ایک وفد دوطرفہ تجارتی نظام کا جائزہ لینے کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔
جام کمال خان اور ترک وزیر تجارت کی ملاقات کے اہم پہلو
وفاقی وزیر جام کمال خان نے باسمتی چاول کے حوالے سے پاکستان کے جائز دعوؤں کی بھرپور حمایت پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کے تحفظ اور فروغ کے لیے مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ وفاقی وزیر تجارت نے ترک کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے بالخصوص کراچی انڈسٹریل پارک میں ترک کاروباری اداروں کے لیے مختص ایک ہزار ایکڑ اراضی کا ذکر کیا۔ انہوں نے ترک کاروباری اداروں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے، صنعتی یونٹس قائم کرنے اور پاکستان میں اپنی پیداواری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی دعوت دی۔جام کمال خان نے پاکستان کی زرعی برآمدات کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی آموں کی ترکیہ کی منڈی تک رسائی آسان بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے ترک حکومت سے تعاون طلب کیا۔ اس موقع پر ترک وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے ترکیہ میں پاکستانی باسمتی چاول کی مؤثر تشہیر اور برانڈنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ترک مارکیٹ میں پاکستانی باسمتی چاول کی موجودگی اور صارفین میں اس کی شناخت کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ ترک وزیر تجارت نے پاکستانی آموں کی درآمدات میں اضافے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کو وسعت دینے کے امکانات کو تسلیم کیا۔ ملاقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے دوطرفہ تجارتی نظام کا جائزہ لینے اور تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات تلاش کرنے کی غرض سے ترک حکام کا ایک وفد پاکستان بھیجنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ اقتصادی مواقع کو ٹھوس تجارتی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ادارہ جاتی روابط، کاروباری تعاون اور قریبی رابطہ کاری کو مسلسل فروغ دینا ضروری ہے۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے علاوہ ترک سرمایہ کاروں کے لیے بھی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں۔
سیسریک کی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات اور تجارتی اعداد و شمار پر زور
دریں اثنا، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کومسیک اجلاس کے موقع پر اسلامی ممالک کے لیے شماریاتی، اقتصادی اور سماجی تحقیق و تربیت کے مرکز (سیسریک) کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ زہرا زمرُت سلجوق سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سیسریک کی ڈائریکٹر جنرل نے وفاقی وزیر تجارت کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق ادارے کی جاری سرگرمیوں، تحقیقی اقدامات اور رپورٹس کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے شماریاتی معلومات اور تجزیاتی جائزے فراہم کرنے میں ادارے کے کردار کو اجاگر کیا۔جام کمال خان نے سیسریک کی جانب سے انجام دیے جانے والے کام کو سراہتے ہوئے اقتصادی تحقیق اور پالیسی سازی کے تجزیوں میں درست، قابلِ اعتماد اور مستند اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستند شماریاتی معلومات اور شواہد پر مبنی جائزے ابھرتے ہوئے تجارتی رجحانات کی نشاندہی، منڈیوں کی حرکیات کو سمجھنے اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی امکانات کا جائزہ لینے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ اعداد و شمار کے معیار میں بہتری اور جامع تجارتی تجزیوں کے ذریعے رکن ممالک غیر استعمال شدہ تجارتی مواقع کی نشاندہی، موجودہ تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور او آئی سی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے زیادہ مؤثر حکمت عملی وضع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے باخبر فیصلہ سازی اور او آئی سی ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے لیے تحقیق پر مبنی تعاون مضبوط بنانے اور قابلِ اعتماد تجارتی اعداد و شمار سے استفادے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ ملاقاتیں ترکیہ کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو تجارتی شراکت داری، زرعی تجارت اور صنعتی تعاون کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاس ہیں، جبکہ ان روابط کا مقصد او آئی سی خطے میں شواہد پر مبنی اقتصادی تعاون اور تجارتی انضمام کو بھی فروغ دینا ہے۔
اہم سوالات و جوابات
جام کمال خان نے استنبول میں کس ترک عہدے دار سے ملاقات کی؟
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے ملاقات کی۔
ترک وزیر تجارت نے کون سا وفد پاکستان بھیجنے پر اتفاق کیا؟
پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے دوطرفہ تجارتی نظام کا جائزہ لینے کے لیے ترک حکام کا ایک وفد پاکستان بھیجنے پر اتفاق کیا۔
