پاکستان کا ڈیٹا قومی اثاثہ، معیشت میں 2 فیصد اضافے اور 80 ارب ڈالر کے مواقع کا امکان: پی ڈی اے
اسلام آباد، 3 نومبر 2026 — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) نے ڈیٹا کے مؤثر استعمال، ڈیجیٹل حکمرانی اور مصنوعی ذہانت کے خطرات پر بریفنگ دی۔ اتھارٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر سہیل منیر نے کہا کہ ڈیٹا کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں دو فیصد تک اضافے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت اجلاس میں ڈاکٹر سہیل منیر نے ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل گورننس کے اہداف بیان کیے۔ اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین نے اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا۔
ڈاکٹر سہیل منیر نے ڈیٹا کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ درست اور محفوظ ڈیٹا پالیسی سازی میں بہتر فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بارے میں انہوں نے خبردار کیا کہ مختلف اے آئی ماڈلز ایک ہی سوال کے مختلف جوابات دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی شہری ان ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مناسب انتظامات ضروری ہیں۔
بریفنگ میں قومی ڈیجیٹل کمیشن کے کردار اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر سہیل منیر نے کہا کہ ڈیجیٹل اقدامات پر عمل درآمد میں صوبوں کا اہم کردار ہے، جبکہ محکموں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور انتظامی رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔
انہوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) سے منسوب تخمینے کا حوالہ دیا کہ انتظامی رکاوٹوں کی معاشی لاگت جی ڈی پی کے 39 فیصد کے برابر ہے۔ ان کے مطابق کام کے طریقوں میں اصلاحات سے پانچ برس میں 60 سے 80 ارب ڈالر کے ممکنہ معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار بریفنگ میں پیش کردہ تخمینے اور امکانات ہیں، نہ کہ پہلے سے حاصل شدہ آمدن۔
چیئرپرسن پی ڈی اے نے بتایا کہ قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان میں 15 شعبے شامل ہیں اور اتھارٹی متعلقہ اداروں کی مشاورت سے مشترکہ ڈیجیٹل گورننس کا نظام تیار کر رہی ہے۔
رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور معلومات ملک سے باہر جانے کے خدشات پر سوال اٹھایا۔ جواب میں ڈاکٹر سہیل منیر نے بتایا کہ پی ڈی اے ضوابط، معیارات اور عمل درآمد کی رہنما ہدایات پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے قومی ڈیٹا ایکسچینج لیئر «وصل» (WASL) کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد شہریوں اور ڈیٹا مالکان کی رضامندی کے ساتھ محفوظ معلوماتی تبادلہ ممکن بنانا ہے۔
اجلاس میں آسیہ اسحاق، پلین بلوچ، عمار لغاری، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہیش کمار، عتیق انور اور احمد سلیم صدیقی سمیت اراکین نے اتھارٹی کے کردار، آئی ٹی آگاہی اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے فروغ سے متعلق سوالات کیے۔
یہ پیش رفت اس اعتبار سے اہم ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات کی توسیع کے ساتھ شہریوں کی نجی معلومات کا تحفظ، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال جیسے معاملات بھی پالیسی بحث کا حصہ بن رہے ہیں۔
تصویر: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس کا منظر۔ ماخذ: پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی 3 نومبر 2026 کی پریس ریلیز۔
