مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
منگل، 3 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.69 EUR/PKR 309.75 GBP/PKR 371.03 سونا/تولہ (عالمی) 407,868 PKR Bitcoin $77,610 USD/PKR 276.69 EUR/PKR 309.75 GBP/PKR 371.03 سونا/تولہ (عالمی) 407,868 PKR Bitcoin $77,610
تعلیم

جامعات میں اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جائے، ماہرین تعلیم

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
جامعات میں اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جائے، ماہرین تعلیم
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

وائس چانسلرز راؤنڈ ٹیبل میں علمی دیانت داری، اساتذہ کی تربیت اور واضح پالیسیوں پر زور؛ اے آئی فاصلاتی تعلیم کو مؤثر بنا رہی ہے، ڈاکٹر ناصر محمود

اسلام آباد، 3 نومبر 2026 — جامعات مصنوعی ذہانت کو تدریس، تحقیق اور انتظامی امور میں اپنائیں، لیکن اس کے استعمال میں علمی دیانت داری، شفافیت اور انسانی تخلیقی صلاحیت کا تحفظ یقینی بنائیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں وائس چانسلرز راؤنڈ ٹیبل کے شرکاء نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی واضح پالیسیاں وضع کرنے پر زور دیا۔

سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کی 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے تحت منعقدہ نشست میں مختلف جامعات کے سربراہان اور ماہرین تعلیم نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت سے استفادے کی تیاری پر گفتگو کی۔

اے آئی معاون ذریعہ ہو، انسانی سوچ کا متبادل نہیں

مقررین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ جامعات اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کرکے تدریسی معیار، تحقیقی پیداوار اور طلبہ کی تعلیمی استعداد بہتر بنا سکتی ہیں، تاہم اس عمل میں اخلاقی اصولوں اور جوابدہی کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔

شرکاء کے مطابق اے آئی کو اساتذہ اور طلبہ کے لیے معاون ذریعے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس پر غیر ضروری انحصار آزادانہ سوچ، تخلیقی صلاحیت اور تحقیق کی عادت کو متاثر کرسکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات ایسی رہنمائی فراہم کریں جس سے ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل ہوں اور علمی محنت کی اہمیت بھی برقرار رہے۔

فاصلاتی تعلیم میں بہتر معاونت کے امکانات

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ مصنوعی ذہانت فاصلاتی نظام تعلیم کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس کے ذریعے طلبہ کو بہتر تعلیمی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنانا ضروری ہے، تاکہ علمی دیانت داری، تخلیقی سوچ اور تعلیمی اقدار کا تحفظ برقرار رہے۔

اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی تشکیل نو پر زور

راؤنڈ ٹیبل میں اساتذہ کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت، نصاب کی تشکیل نو، تحقیقی سہولیات میں بہتری اور طلبہ کی ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کو ضروری قرار دیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کا شعور پیدا کرنا جامعات کی اہم ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق مؤثر پالیسیوں اور رہنما اصولوں سے تدریس اور تحقیق میں اے آئی کے استعمال کو تعلیمی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے۔

نشست میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد، اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر انیل سلمان، پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا، یونیورسٹی آف سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد ماری اور ویمن یونیورسٹی آزاد جموں و کشمیر کی پروفیسر ڈاکٹر انیلا کمال نے بھی شرکت کی۔

یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مستنصر علی غضنفر آن لائن شریک ہوئے، جبکہ ڈاکٹر فریحہ آرموغان نے نشست کی نظامت کی۔

ایس ڈی پی آئی کے سرکاری پروگرام کے مطابق 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس 2 سے 5 نومبر تک علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد میں منعقد ہورہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں اے آئی کی تیاری سے متعلق یہ نشست 3 نومبر کے پروگرام کا حصہ تھی۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں