پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری میں خود کفیل ہو جائے گا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفی کمال نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے لیے غیر ملکی مالی معاونت سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گا، جبکہ ملک میں جعلی ادویات کی روک تھام اور ادویات کی اصلیت، قیمت اور تاریخِ تنسیخ کی تصدیق کے لیے بارکوڈ کا جدید نظام نومبر کے اختتام تک نافذ کر دیا جائے گا۔
اہم نکات
- پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے تمام 1.2 ارب ڈالر سالانہ اخراجات خود برداشت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
- جعلی ادویات کی نشاندہی کے لیے بارکوڈ نظام کا نفاذ نومبر 2026 کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔
- اسلام آباد میں قائم کووڈ 19 ہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انڈس ہسپتال کے ذریعے فعال کر دیا گیا ہے۔
- ملک میں 76 ہزار ادویات کا ڈیٹا اکٹھا کر کے سافٹ ویئر کی سافٹ لانچنگ کر دی گئی ہے۔
ویکسین کی مقامی پیداوار اور خود کفالت
جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سید مصطفی کمال نے بتایا کہ پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین فراہم کی جاتی ہیں جو فی الحال درآمد کی جاتی ہیں۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں 51 فیصد اخراجات برداشت کر رہی ہیں جبکہ 49 فیصد مالی معاونت بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت مستقبل میں ان تمام ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے کوشاں ہے تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں غیر ملکی معاونت کا حصہ کل اخراجات کے تین فیصد سے بھی کم ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پالیسیوں کے تناظر میں معاشی خود انحصاری کے اہداف اہم ہیں۔
جعلی ادویات کا خاتمہ اور بارکوڈ نظام
جعلی ادویات کی روک تھام کے منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اب 99.99 فیصد ڈیٹا حاصل کیا جا چکا ہے۔ اس نظام کے تحت صارف موبائل فون سے بارکوڈ سکین کرکے دوا کی اصلیت جان سکے گا، اصلی دوا پر سکرین سبز جبکہ جعلی پر سرخ ہو جائے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے مینوفیکچرنگ لائن تک ٹریسنگ ممکن ہوگی۔ یاد رہے کہ حکومت اسٹیٹ بینک کے مالیاتی نظم و ضبط اور سائبر سیکیورٹی کے جدید معیارات کی طرح صحت کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل نگرانی کو فروغ دے رہی ہے۔
کووڈ 19 ہسپتال کی بحالی
چین کے تعاون سے بننے والے ہسپتال کی غیر فعالیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2022 سے بند پڑا ہسپتال اب 182 بستروں کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے۔ انڈس ہسپتال کے ساتھ شراکت داری کے بعد اب یہاں مریضوں کو مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی، جس سے اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے عوام مستفید ہوں گے۔
اہم سوالات و جوابات
پاکستان ویکسین کی خریداری میں کب تک خود کفیل ہوگا؟
وفاقی وزیر سید مصطفی کمال کے مطابق پاکستان 2030 تک ویکسین کی خریداری کے لیے غیر ملکی مالی معاونت سے مکمل طور پر دستبردار ہو کر خود کفیل ہو جائے گا۔
بارکوڈ نظام کیسے کام کرے گا؟
اس نظام کے تحت ہر دوا پر مخصوص بارکوڈ ہوگا جسے سکین کرنے پر صارف اپنی قومی زبان میں دوا کی اصلیت، قیمت اور تاریخ تنسیخ کی معلومات حاصل کر سکے گا۔
