کمانڈر کویت نیول فورس کی چیف آف دی نیول اسٹاف سے ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ کمانڈر کویت نیول فورس میجر جنرل (نیوی) سیف عبد الہادی الحملان نے 27 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں نیول ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔ پاکستان نیوی کے سربراہ نے کویت نیول فورس کے کمانڈر کا استقبال کیا، جبکہ پاک بحریہ کے ایک چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
اہم نکات
- کمانڈر کویت نیول فورس میجر جنرل سیف عبد الہادی الحملان نے ایڈمرل نوید اشرف سے نیول ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔
- ملاقات میں پیشہ ورانہ امور، علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی اور دوطرفہ بحری تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
- دونوں رہنماؤں نے پیشہ ورانہ تربیت، صلاحیت سازی اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کا مقصد اور دفاعی تعاون

ملاقات کے دوران دونوں معزز رہنماؤں نے باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، علاقائی سمندری سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ بحری تعاون کو فروغ دینے کے ذرائع پر تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں اطراف نے پائیدار رابطوں کی اہمیت پر زور دیا اور پیشہ ورانہ تربیت، استعداد کار میں اضافے اور دفاعی تعاون میں مزید تعاون کے مواقع تلاش کیے۔ یہ اہم پیش رفت چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی طرح علاقائی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان اور کویت کے درمیان طویل مدتی برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جو مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ کمانڈر کویت نیول فورس کو پاکستان نیوی کی جانب سے علاقائی سمندری سلامتی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور کردار کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو نئی تقویت ملے گی، جیسا کہ پاکستان چین کی قیادت میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا رکن بننے کے بعد عالمی فورمز پر فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
دوطرفہ تعلقات کی اہمیت
نیول ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطح کی ملاقات میں دونوں بحری افواج کے مابین ادارہ جاتی تعلقات کو مزید قریب لانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان نیوی کے دیگر امور کے حوالے سے مزید معلومات شفقت عباس ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ تعینات کے حالیہ اعلانات کے تناظر میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کی دفاعی روابط کو بڑھانے کے پختہ عزم کا عکاس ہے جو خطے میں بحری سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

اہم سوالات و جوابات
اس ملاقات میں کن امور پر بات چیت کی گئی؟
ملاقات میں باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی، پیشہ ورانہ تربیت اور دفاعی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
اس دورے سے پاک کویت تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟
اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور بحری تعاون کے دائرہ کار میں وسعت آئے گی۔
