یو اے ای بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دوڑ میں شامل، صدر شیخ محمد بن زاید نے سفارتکار لانا نسیبہ کو نامزد کر دیا، پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بننے کا امکان
*یو اے ای بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دوڑ میں شامل، صدر شیخ محمد بن زاید نے سفارتکار لانا نسیبہ کو نامزد کر دیا، پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بننے کا امکان*
ابوظہبی/نیویارک: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی سینئر سفارتکار لانا زکی نسیبہ کو باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے۔ اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے ان کی نامزدگی پیش کی ہے۔ اگر لانا نسیبہ منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق، لانا نسیبہ کی نامزدگی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے جاری سفارتی عمل کے دوران سامنے آئی ہے۔ موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری مدتِ عہدہ 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد یکم جنوری 2027 سے نئی قیادت ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
لانا نسیبہ متحدہ عرب امارات کی تجربہ کار سفارتکار ہیں۔ وہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل نمائندہ رہیں۔ اس دوران انہوں نے سلامتی کونسل میں یو اے ای کی رکنیت کے دور میں سفارتی امور میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ جنرل اسمبلی کی نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ اس وقت وہ یو اے ای کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ان کے سفارتی تجربے میں بین الاقوامی امن و سلامتی، انسانی امداد، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ ان کی نامزدگی کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے عالمی ادارے کی قیادت کے انتخاب میں باضابطہ طور پر اپنی امیدوار پیش کر دی ہے۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے بھی لانا نسیبہ کی نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے مطابق، ان کا سفارتی تجربہ اور اقوام متحدہ کے نظام سے واقفیت عالمی ادارے کی قیادت کے لیے اہم خصوصیات ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا انتخاب ایک کثیر مرحلہ عمل ہے۔ اس کے تحت سلامتی کونسل امیدوار کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد جنرل اسمبلی تقرری کی منظوری دیتی ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس، ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں، اس لیے کسی بھی امیدوار کے لیے ان کی مخالفت سے بچنا اہم ہوگا۔
لانا نسیبہ کے علاوہ دیگر امیدوار بھی اس منصب کے لیے زیر غور ہیں۔ کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ربیکا گرینسپین کا نام بھی نمایاں امیدواروں میں شامل ہے۔ تاہم، حتمی انتخاب سلامتی کونسل میں ہونے والی مشاورت اور جنرل اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہے۔
اقوام متحدہ کی سربراہی کے لیے لانا نسیبہ کی نامزدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی ادارے کو غزہ، سوڈان اور یوکرین سمیت مختلف تنازعات، انسانی بحرانوں اور بین الاقوامی تعاون کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی نامزدگی سے سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم ان کے منتخب ہونے یا پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بننے کا امکان ابھی حتمی فیصلے سے مشروط ہے۔
