مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
پیر، 2 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 402,290 PKR Bitcoin $77,894 USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 402,290 PKR Bitcoin $77,894
قومی

عرب ممالک اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھائیں، امریکہ اب ہر مسئلے کا حل نہیں کرے گا، ٹام بیرک

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
عرب ممالک اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھائیں، امریکہ اب ہر مسئلے کا حل نہیں کرے گا، ٹام بیرک
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

عرب ممالک اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھائیں، امریکہ اب ہر مسئلے کا حل نہیں کرے گا، ٹام بیرک

*دوحہ: 22 اکتوبر 2026*

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب اپنے تمام مسائل حل کرنے کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے، انہیں اپنی سلامتی کے لیے خود زیادہ ذمہ داری اٹھانا اور علاقائی دفاعی اتحاد مضبوط بنانا ہوں گے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آٹھویں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹام بیرک نے کہا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے دستبردار نہیں ہو رہا، تاہم خطے میں اس کے کردار اور سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب خطے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بجائے محدود اور معاون کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بیرک نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 80 برس سے امریکہ کو عالمی سلامتی کے ضامن کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن اب یہ تصور تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے بقول خطے کے ممالک بھی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لیے امریکہ پر بھروسا نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سابقہ فوجی آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق، لیبیا اور افغانستان سمیت مختلف ممالک میں مداخلت اور حکومتوں کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق کسی ملک کی قیادت یا حکومت کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش اکثر غلط ثابت ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی مدد، لیکن زمینی جنگ میں امریکی مداخلت نہیں

ٹام بیرک نے یمن کے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کی سکیورٹی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کی حمایت کرتے ہیں اور اسے درکار لاجسٹک مدد فراہم کی جائے گی، تاہم کسی دوسرے ملک کی زمینی جنگ میں براہِ راست امریکی فوجی مداخلت بے نتیجہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں، حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ممالک کی ریاستی حکومتوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ بیرک کے مطابق ایسے علاقائی مسائل کا مستقل حل صرف امریکی فوجی مداخلت سے ممکن نہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی تعاون کا ذکر

امریکی ایلچی نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے علاقائی اتحادوں پر زیادہ انحصار کریں۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ابھرتے ہوئے دفاعی تعاون کو اسی وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں پیش کیا۔

بیرک کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے کے اتحادی ممالک سے اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ امریکہ معاونت اور سفارتی اثرورسوخ برقرار رکھتے ہوئے براہِ راست فوجی مداخلت محدود کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو چھوڑ نہیں رہا بلکہ اپنے کردار کو نئے حالات کے مطابق تبدیل کر رہا ہے۔

ٹام بیرک کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے ساتھ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور یمن کے حوثیوں کے ساتھ سعودی عرب کی لڑائی نے خطے کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں