مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 16°C
پیر، 2 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 404,781 PKR Bitcoin $78,135 USD/PKR 276.75 EUR/PKR 309.02 GBP/PKR 370.50 سونا/تولہ (عالمی) 404,781 PKR Bitcoin $78,135
قومی

برطانیہ میں کار چوری کا نیا رجحان، سالانہ ہزاروں گاڑیاں چوری، منظم گروہ جدید ٹیکنالوجی اور قیمتی پرزوں کو نشانہ بنانے لگے

📅 ✍️ ⏱ 8 منٹ
برطانیہ میں کار چوری کا نیا رجحان، سالانہ ہزاروں گاڑیاں چوری، منظم گروہ جدید ٹیکنالوجی اور قیمتی پرزوں کو نشانہ بنانے لگے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

برطانیہ میں کار چوری کا نیا رجحان، سالانہ ہزاروں گاڑیاں چوری، منظم گروہ جدید ٹیکنالوجی اور قیمتی پرزوں کو نشانہ بنانے لگے

*لندن، 19 اکتوبر 2026*

برطانیہ میں گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں کمی کے سرکاری اعدادوشمار کے باوجود موٹر گاڑیوں اور ان کے قیمتی پرزوں کی چوری پولیس، انشورنس کمپنیوں اور گاڑی مالکان کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ جدید الیکٹرانک سکیورٹی نظام میں موجود کمزوریوں، منظم جرائم پیشہ گروہوں اور چوری شدہ پرزوں کی غیر قانونی تجارت نے اس جرم کی نوعیت تبدیل کر دی ہے۔

برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کی 23 جولائی 2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، مارچ 2026 کو ختم ہونے والے سال میں انگلینڈ اور ویلز میں پولیس نے گاڑیوں سے متعلق 312,250 جرائم ریکارڈ کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد کم تھے۔ اس زمرے میں گاڑیوں سے متعلق مختلف جرائم شامل ہیں، اس لیے ان تمام واقعات کو صرف کار چوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔

او این ایس کے مطابق، کرائم سروے فار انگلینڈ اینڈ ویلز نے دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے سال میں گاڑیوں سے متعلق چوری کے تقریباً 596,000 واقعات کا تخمینہ لگایا تھا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 14 فیصد کم تھے۔ سروے کے اعدادوشمار اور پولیس ریکارڈ میں فرق اس لیے بھی ہوتا ہے کہ سروے ایسے واقعات کا تخمینہ لگاتا ہے جو لازماً پولیس کو رپورٹ نہیں کیے گئے ہوتے، جبکہ پولیس کے اعدادوشمار درج شدہ جرائم پر مبنی ہوتے ہیں۔ لگژری گاڑیوں کے پرزے بھی چوروں کا ہدف

برطانوی میڈیا کی تازہ رپورٹوں میں گاڑیوں کے قیمتی پرزوں کی چوری کا ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ دی ٹائمز کی 17 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مغربی لندن کے علاقے چیلسی میں ایک ہی رات کم از کم 15 لگژری گاڑیوں کے سائیڈ مررز کے شیشے چوری کیے گئے۔ متاثرہ گاڑیوں میں بی ایم ڈبلیو، وولوو، پورشے، جیگوار اور مرسڈیز بینز سمیت مختلف برانڈز کی گاڑیاں شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان پرزوں میں ہیٹنگ، اینٹی فوگنگ، اینٹی گلیئر اور خودکار مدھم روشنی جیسے جدید فیچرز موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی غیر قانونی مارکیٹ میں قدر بڑھ جاتی ہے۔ بعض گاڑیوں میں مرر کے شیشے تبدیل کرنے پر جوڑے کی لاگت 3,000 پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اسے منظم جرائم کے ممکنہ نیٹ ورک سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ گاڑیاں چوری کرنے کے طریقے کیسے تبدیل ہوئے؟

ماہرین کے مطابق، جدید گاڑیوں میں کی لیس انٹری اور الیکٹرانک اسٹارٹ سسٹم سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن بعض ماڈلز میں ان نظاموں کی کمزوریوں سے چور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ریلے اٹیک کے ذریعے بعض مجرم گھر میں موجود اسمارٹ چابی کے سگنل کو گاڑی تک پہنچا کر اس کے تالے کھولنے اور انجن اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرے طریقوں میں گاڑی کے الیکٹرانک نظام میں مداخلت، سکیورٹی آلات کو ناکارہ بنانا اور چوری کے بعد گاڑی کو فوری طور پر کسی دوسری جگہ منتقل کرنا شامل ہیں۔ تاہم، ہر چوری میں یہی طریقے استعمال نہیں ہوتے؛ بعض گاڑیاں روایتی طریقوں سے بھی چوری کی جاتی ہیں۔ چوری شدہ گاڑیوں سے منظم جرائم کو مالی فائدہ

برطانوی میڈیا کی تحقیقات کے مطابق، بعض منظم گروہ چوری شدہ گاڑیوں کو مکمل حالت میں فروخت کرنے کے بجائے ان کے پرزے الگ کر کے غیر قانونی مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ کچھ گاڑیوں کو بیرون ملک بھی منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ان کی شناخت اور اصل ملکیت کا سراغ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ کاروبار مجرموں کے لیے اس لیے بھی پرکشش ہے کہ گاڑی کے مختلف پرزے الگ الگ خریداروں کو فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے چوری شدہ گاڑی کی شناخت اور بازیابی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ تاہم، ہر چوری شدہ گاڑی کا بیرون ملک اسمگل ہونا یا منشیات کے کاروبار سے منسلک ہونا ثابت نہیں ہے۔ گاڑیوں کی چوری میں کمی کے باوجود مسئلہ برقرار کیوں ہے؟

اعدادوشمار میں کمی کے باوجود گاڑی مالکان کے لیے خطرہ ختم نہیں ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چوری کے طریقے مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ جہاں پہلے مکمل گاڑی چوری کرنا زیادہ نمایاں مسئلہ تھا، وہیں اب جدید الیکٹرانک پرزوں، سائیڈ مررز، کیٹالیٹک کنورٹرز اور دیگر مہنگے آلات کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دوسری وجہ چوری شدہ سامان کی غیر قانونی خرید و فروخت ہے۔ اگر چوری شدہ پرزوں کے لیے خریدار موجود ہوں تو مجرموں کو اس سرگرمی سے مالی فائدہ حاصل ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے صرف گاڑی چوری کرنے والوں کی گرفتاری کافی نہیں؛ غیر قانونی پرزوں کے کاروبار اور ان کی ترسیل کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔

تیسری وجہ گاڑیوں کی سکیورٹی اور انشورنس کے درمیان تعلق ہے۔ چوری کے خطرے سے دوچار گاڑیوں کے مالکان کو اضافی حفاظتی آلات نصب کرانے پڑ سکتے ہیں، جبکہ انشورنس کمپنیاں بھی گاڑی کے ماڈل، مقام اور چوری کے خطرے کو مدنظر رکھ سکتی ہیں۔ تاہم، ہر گاڑی یا ہر مالک کے انشورنس پریمیم میں اضافے کی وجہ صرف چوری نہیں ہوتی۔ تجزیہ: صرف پولیس کارروائی کافی نہیں

برطانیہ میں گاڑیوں کی چوری سے نمٹنے کے لیے تین سطحوں پر اقدامات اہم ہیں۔ پہلی سطح پر گاڑی ساز کمپنیوں کو ایسے الیکٹرانک نظام تیار کرنا ہوں گے جن کے سگنلز کی نقل کرنا یا انہیں غیر مجاز طریقے سے استعمال کرنا مشکل ہو۔ دوسری سطح پر پولیس کو چوری شدہ گاڑیوں کی بازیابی کے ساتھ ساتھ منظم گروہوں، غیر قانونی ورکشاپس اور چوری شدہ پرزوں کے خریداروں تک پہنچنا ہوگا۔ تیسری سطح پر آن لائن فروخت ہونے والے مشکوک پرزوں کی شناخت اور ان کی خریدوفروخت کی نگرانی ضروری ہے۔

گاڑی مالکان کے لیے بھی اسمارٹ چابی کو سگنل روکنے والے محفوظ پاؤچ میں رکھنا، اسٹیئرنگ لاک استعمال کرنا، گاڑی کو روشن اور محفوظ مقام پر پارک کرنا اور کار ساز کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ سکیورٹی اپ ڈیٹس نصب کرنا مفید حفاظتی اقدامات ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر، تازہ سرکاری اعدادوشمار گاڑیوں سے متعلق جرائم میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن چوری کے بدلتے طریقے اور قیمتی پرزوں کی غیر قانونی تجارت اس مسئلے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مؤثر حکمت عملی کے لیے چوری کی روک تھام، گاڑیوں کی بازیابی، مجرموں کے نیٹ ورکس کے خاتمے اور غیر قانونی مارکیٹ کی نگرانی کو یکجا کرنا ضروری ہے۔

*ذرائع:* برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (ONS)، 23 جولائی 2026؛ دی ٹائمز، 17 اکتوبر 2026؛ برطانوی گاڑیوں کی سکیورٹی اور منظم گاڑی چوری سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں