درآمدات میں انڈر انوائسنگ کے خلاف ملک گیر کارروائی کی جائے، افتخار علی ملک
درآمدات میں انڈر انوائسنگ کے خلاف ملک گیر کارروائی کی جائے، افتخار علی ملک
لاہور، 18 اکتوبر: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے درآمدات میں انڈر انوائسنگ کے خلاف ملک گیر سطح پر فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ درآمدی اشیا کی قیمتیں کم ظاہر کرنے کے غیر قانونی عمل سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ ملکی صنعت اور مقامی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ایک بیان میں افتخار علی ملک نے کہا کہ درآمدی اشیا کی اصل قیمت چھپا کر کم قیمت ظاہر کرنے سے کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی وصولی میں کمی آتی ہے۔ اس طریقۂ کار کے باعث درآمد شدہ اشیا مقامی مارکیٹ میں مصنوعی طور پر کم قیمت پر فروخت ہوتی ہیں، جس سے ملکی صنعت کاروں کو غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے صنعتی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور مقامی مصنوعات کی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ درآمدی لین دین کی مؤثر نگرانی، کسٹمز قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا کہ درآمدی دستاویزات کی شفاف جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے اور اشیا کی قیمتیں جان بوجھ کر کم ظاہر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
افتخار علی ملک نے پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی تجارت میں انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ڈیٹا شیئرنگ کے مؤثر استعمال سے تجارتی بے ضابطگیوں کی نشاندہی، درآمدی اشیا کی اصل قیمتوں کے تعین اور محصولات کے نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمدات کی درست قیمتوں کے اندراج، مؤثر نگرانی اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے قومی محصولات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے ملکی صنعت کو تحفظ دینے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
