ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد قبول کرنے کا مشورہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے، امریکی صدر
ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد قبول کرنے کا مشورہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے، امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے، تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس سے قبل حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیل کی براہِ راست فوجی شمولیت کی تجویز مسترد کر چکے ہیں۔
16 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب کو حوثی باغیوں کے خلاف اسرائیل کی جانب سے پیش کی جانے والی مدد قبول کرنی چاہیے؟ اس پر امریکی صدر نے جواب دیا، ’’جی ہاں، بالکل، میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف ممکنہ تعاون اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورت حال پر توجہ مرکوز ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل سعودی عرب کو کس نوعیت کی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے بیان سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ سعودی عرب نے اسرائیلی پیشکش قبول کر لی ہے یا دونوں ممالک کے درمیان کوئی نیا فوجی معاہدہ طے پایا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی اخبار ہاریتز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیل کی براہِ راست فوجی شمولیت کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ رپورٹ میں ایک نامعلوم سفارتی ذریعے کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی قیادت اسرائیلی فوجی مدد قبول کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون پر سعودی عوام کا منفی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے اور مستقبل میں سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے لیے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ تاہم، سعودی حکومت کی جانب سے ٹرمپ کے تازہ بیان پر کسی باضابطہ ردعمل یا اسرائیلی مدد قبول کرنے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تاحال باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے امکان کا بھی ذکر کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب اسرائیلی مدد قبول کرنے یا اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون کے کسی نئے انتظام پر آمادہ ہے یا نہیں۔
