سعودی عرب میں نبی کریم ﷺ کے تاریخی راستۂ ہجرت کی ترقی کا منصوبہ، 470 کلومیٹر طویل روٹ پر 41 تاریخی مقامات بحال کیے جائیں گے
سعودی عرب میں نبی کریم ﷺ کے تاریخی راستۂ ہجرت کی ترقی کا منصوبہ، 470 کلومیٹر طویل روٹ پر 41 تاریخی مقامات بحال کیے جائیں گے
*مدینہ منورہ:* سعودی عرب نے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے تاریخی راستے کو محفوظ بنانے، اہم مقامات کی بحالی اور زائرین کے لیے ایک منظم تاریخی و روحانی سفر میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ ’’علیٰ خُطاہ‘‘ (اپنے قدموں کے نشان پر) کے نام سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت 470 کلومیٹر سے زیادہ طویل تاریخی راستے پر 41 اہم مقامات کو ترقی دی جائے گی، جبکہ زائرین کو ہجرت نبوی ﷺ سے متعلق تاریخی واقعات اور مقامات کو قریب سے جاننے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز نے 16 فروری 2026 کو منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مکہ مکرمہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز اور سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
منصوبے کا مقصد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تاریخی ہجرت کے راستے کو ایک منظم تجربے کی صورت میں زائرین کے سامنے پیش کرنا، سیرت النبی ﷺ سے متعلق آگاہی بڑھانا اور اس راستے کے اطراف واقع تاریخی مقامات کو محفوظ بنانا ہے۔ اس کے ذریعے زائرین ہجرت کے سفر سے منسلک مقامات کی سیر کر سکیں گے اور اسلامی تاریخ کے اس اہم واقعے کے پس منظر، مشکلات اور اسباق سے واقفیت حاصل کر سکیں گے۔ 470 کلومیٹر سے زیادہ طویل تاریخی راستہ
سعودی حکام کے مطابق اس منصوبے میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک پھیلے تاریخی راستے پر 41 تاریخی مقامات کی ترقی اور بحالی شامل ہے۔ منصوبے کے تحت ہجرت کے پانچ اہم مقامات کو خصوصی طور پر نمایاں کیا گیا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور انٹرایکٹو سرگرمیوں کے ذریعے زائرین کو تاریخی واقعات سے آگاہ کیا جائے گا۔
اس منصوبے میں ہجرت نبوی ﷺ سے متعلق ایک مخصوص میوزیم بھی شامل ہے، جہاں زائرین کو اس تاریخی سفر کے اہم مراحل اور اس کے اسلامی تاریخ پر اثرات کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ مختلف مقامات پر تاریخی معلومات، رہنمائی اور دیگر سہولتوں کے ذریعے اس سفر کو زیادہ بامقصد بنانے کا منصوبہ ہے۔
منصوبے کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق زائرین سفر کے مختلف حصوں میں پیدل چلنے، گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے اور بعض مقامات پر روایتی سفری طریقوں کا تجربہ کرنے کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ سفر کی مدت زائرین کے منتخب کردہ پروگرام اور راستے کے حصوں کے مطابق چند گھنٹوں سے کئی دن تک ہو سکتی ہے۔ پہلے مرحلے میں 10 لاکھ زائرین کا ہدف
سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ترکی آل الشیخ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں 10 لاکھ زائرین کی آمد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2030 تک یہ تعداد 50 لاکھ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ مستقبل میں زائرین کی تعداد ایک کروڑ تک بڑھانے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے تاریخی مقامات کی بحالی کے ساتھ ساتھ سیاحت، مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔ اس کے لیے متعدد سرکاری ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، جن میں مدینہ منورہ کی ترقیاتی اتھارٹی، وزارت سیاحت، وزارت حج و عمرہ، سعودی ٹورازم اتھارٹی اور زائرین کے تجربے سے متعلق ادارے شامل ہیں۔
یہ منصوبہ سعودی عرب کے وژن 2030 کا بھی حصہ ہے، جس کے تحت تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ، سیاحت کے فروغ اور زائرین کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ کیا سعودی عرب نئی سڑک تعمیر کر رہا ہے؟
اس منصوبے کے حوالے سے ایک اہم وضاحت یہ ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے نبی کریم ﷺ کے تاریخی راستۂ ہجرت کو ترقی دینے کا منصوبہ تصدیق شدہ ہے، تاہم دستیاب سرکاری اعلانات میں اس مقصد کے لیے ایک بالکل نئی، الگ شاہراہ تعمیر کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ بنیادی توجہ تاریخی راستے کے مقامات کی بحالی، نشاندہی، سہولتوں کی فراہمی اور زائرین کے لیے ایک منظم تجربہ تیار کرنے پر ہے۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ملانے والی موجودہ ہجرہ شاہراہ تقریباً 524 کلومیٹر طویل ہے۔ سعودی روڈز جنرل اتھارٹی نے اگست 2024 میں اس شاہراہ پر سڑک کی سطح بہتر بنانے، حفاظتی نشانات نصب کرنے اور چٹانیں گرنے کے خطرات سے تحفظ سمیت مختلف اقدامات پر مشتمل بہتری کا منصوبہ بھی رپورٹ کیا تھا۔ یہ موجودہ شاہراہ کی بہتری کا منصوبہ ہے، جبکہ ’’علیٰ خُطاہ‘‘ تاریخی ہجرت کے راستے کو محفوظ بنانے اور اسے زائرین کے لیے قابلِ رسائی بنانے سے متعلق ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ’’علیٰ خُطاہ‘‘ منصوبہ اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعے کو نئی نسلوں اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین تک پہنچانے، تاریخی مقامات کی اہمیت اجاگر کرنے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مذہبی و ثقافتی ورثے سے وابستگی بڑھانے کی کوشش ہے۔
*ماخذ:* سعودی پریس ایجنسی، مدینہ منورہ کی ترقیاتی اتھارٹی اور منصوبے کی سرکاری ویب سائٹ۔
