آبنائے ہرمز میں سنگاپور کا جہاز ڈوب گیا، 2500 کنٹینرز میں آئی فون اور الیکٹرانکس لدے تھے، کروڑوں ڈالر کے نقصان کا خدشہ
آبنائے ہرمز میں سنگاپور کا جہاز ڈوب گیا، 2500 کنٹینرز میں آئی فون اور الیکٹرانکس لدے تھے، کروڑوں ڈالر کے نقصان کا خدشہ
اسلام آباد: آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز جی ایف ایس پرائیڈ (GFS Pride) کے ڈوبنے سے کروڑوں ڈالر کے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز پر 2,500 سے زائد کنٹینرز موجود تھے، تاہم ان میں آئی فون، الیکٹرانک ڈیوائسز اور دیگر قیمتی سامان کی موجودگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور مجموعی نقصان کا باضابطہ تخمینہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہاز 13 اکتوبر کو آبنائے ہرمز میں نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بننے کے بعد نقصان کا شکار ہوا اور اس میں آگ لگ گئی۔ 14 اکتوبر کو جہاز کے ڈوبنے کی اطلاع سامنے آئی۔ سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز پر موجود عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ جہاز ایک غیر مجاز اور خطرناک بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا اور بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا۔ تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی اصل وجہ کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں اور آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ جہاز بارودی سرنگ سے ہی ٹکرایا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق جہاز پر 2,500 سے زائد کنٹینرز لدے ہوئے تھے۔ جہاز کی گنجائش 2,824 معیاری بیس فٹ کنٹینرز کے برابر بتائی گئی ہے، تاہم ڈوبنے کے وقت موجود کنٹینرز کی حتمی تعداد اور ان میں لادے گئے سامان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جہاز سے سیاہ دھواں اٹھتے اور سمندر میں کنٹینرز تیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی گردش کر رہے ہیں کہ کنٹینرز میں آئی فونز، دیگر الیکٹرانک مصنوعات اور قیمتی تجارتی سامان موجود تھا۔ بعض ویڈیوز میں چھوٹی کشتیوں کو تیرتے ہوئے سامان کے قریب بھی دیکھا جاسکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی جگہ، وقت اور واقعے سے تعلق کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
جہاز کے ڈوبنے سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے اس کی اصل مالیت، کارگو کی تفصیلات، سامان کی تجارتی قیمت اور انشورنس کی معلومات درکار ہیں۔ ان تفصیلات کی عدم دستیابی کے باعث فی الحال کسی حتمی رقم کا تعین ممکن نہیں۔ تاہم اگر جہاز پر بڑی مقدار میں قیمتی الیکٹرانکس اور دیگر تجارتی سامان موجود تھا تو مجموعی نقصان کئی کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
ابتدائی مفروضوں کی بنیاد پر جہاز اور کارگو کا مجموعی نقصان 3 کروڑ 50 لاکھ سے 15 کروڑ 50 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ یہ محض ایک غیر سرکاری تخمینہ ہے، جس کی کسی جہاز مالک، انشورنس کمپنی یا متعلقہ حکومتی ادارے نے تصدیق نہیں کی۔
آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے خلیج فارس کی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بڑی تعداد میں جہاز گزرتے ہیں۔ اس راستے پر تجارتی جہازوں کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف جہاز ران کمپنیوں اور سامان کے مالکان کے لیے مالی مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ انشورنس کی لاگت، مال برداری کے کرایوں اور عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
فی الحال جہاز کے ڈوبنے کے واقعے اور عملے کے محفوظ ہونے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں، تاہم کنٹینرز میں موجود سامان کی مکمل تفصیلات، آئی فونز اور الیکٹرانکس کی مقدار اور مجموعی مالی نقصان کی حتمی تصدیق ہونا باقی ہے۔
