مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
منگل، 3 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.69 EUR/PKR 309.75 GBP/PKR 371.03 سونا/تولہ (عالمی) 405,357 PKR Bitcoin $76,415 USD/PKR 276.69 EUR/PKR 309.75 GBP/PKR 371.03 سونا/تولہ (عالمی) 405,357 PKR Bitcoin $76,415
قومی

پاکستان میں نئے ڈیموں اور نئی نہروں کے مخالف وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ چین میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا دورہ، آبی ذخائر کی اہمیت پر بریفنگ لی

📅 ✍️ ⏱ 6 منٹ
پاکستان میں نئے ڈیموں اور نئی نہروں کے مخالف وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ چین میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا دورہ، آبی ذخائر کی اہمیت پر بریفنگ لی
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

پاکستان میں نئے ڈیموں اور نئی نہروں کے مخالف وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ چین میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا دورہ، آبی ذخائر کی اہمیت پر بریفنگ لی

اسلام آباد(حنیف صابر) پاکستان میں دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کرنے والے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا چین کے دنیا کے بڑے پن بجلی منصوبوں میں شمار ہونے والے تھری گورجز ڈیم کا دورہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف سندھ حکومت دریائے سندھ کے پانی پر اپنے صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی نہروں کے منصوبے کی مخالفت کرتی رہی ہے، دوسری جانب وزیراعلیٰ چین میں پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب پر قابو پانے، پن بجلی پیدا کرنے اور دریائی نظام کے مؤثر انتظام سے متعلق چینی ماہرین کی بریفنگ لے رہے ہیں۔ اس صورت حال نے آبی وسائل کے انتظام اور پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر سے متعلق پالیسی پر بحث کے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

دریاؤں پر ڈیمز بنانے کی مخالفت پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کی بنیادی پالیسی ہے۔ مراد علی شاہ نے اپریل 2025ء میں دریائے سندھ سے مجوزہ چھ نئی نہروں کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان نہروں کو قبول نہیں کرے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسے منصوبوں پر تمام متعلقہ صوبوں میں اتفاق رائے ضروری ہے اور سندھ کے پانی کے حقوق کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم 12 اکتوبر 2026ء کو چین کے صوبے ہوبے میں دریائے یانگسی پر قائم تھری گورجز ڈیم کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے پانی ذخیرہ کرنے، سیلابی پانی کو منظم کرنے، پن بجلی پیدا کرنے اور آبی وسائل کے بہتر استعمال سے متعلق چینی تجربات میں دلچسپی ظاہر کی۔ چینی حکام نے وزیراعلیٰ اور ان کے وفد کو ڈیم کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشن اور آبی انتظام کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

تھری گورجز ڈیم کی اہمیت محض بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں۔ اس منصوبے کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 22,500 میگاواٹ ہے اور یہ دریائی پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے، سیلاب کے خطرات کم کرنے اور اندرون ملک آبی نقل و حمل میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈیم اس بات کی مثال ہے کہ بڑے آبی منصوبوں کو توانائی، پانی کے انتظام اور معاشی ترقی کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مراد علی شاہ نے دورے کے موقع پر سندھ میں مون سون کے دوران سیلاب اور خشک موسم میں پانی کی قلت جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پانی کے ذخیرے، سیلابی پیش گوئی اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت چینی تجربات سے استفادہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گی، بالخصوص ذخائر کے آپریشن، پانی کی نگرانی، گاد کے انتظام اور میٹھے پانی کو محفوظ بنانے کے شعبوں میں گہری دلچسپی لی۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر پانی ذخیرہ کرنا، سیلابی تباہ کاریوں کو کم کرنا اور خشک موسم کے لیے پانی محفوظ رکھنا سندھ کی ضرورت ہے تو پاکستان میں آبی ذخائر اور نہری منصوبوں پر بحث کو کس بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے؟

اس سوال کا جواب صرف ڈیموں کی حمایت یا مخالفت میں نہیں بلکہ منصوبوں کی نوعیت، مقام، پانی کی دستیابی، صوبوں کے حصوں، ماحولیاتی اثرات اور متوقع فوائد کے منصفانہ جائزے میں پوشیدہ ہے۔ دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کا معاملہ اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم تعمیر کرنے کا معاملہ تکنیکی اعتبار سے ایک جیسے نہیں۔ ہر منصوبے کے اثرات کا الگ جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار، اس کے استعمال کا طریقہ اور مختلف صوبوں کو اس سے حاصل ہونے والے فوائد الگ الگ ہو سکتے ہیں۔ سندھ کے خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مراد علی شاہ نے خود تھری گورجز ڈیم کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے آبی منصوبوں میں انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی تقاضوں کا تحفظ، سمندری پانی کی دراندازی کی روک تھام اور ساحلی آبادیوں کے مفادات کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں پانی کی قلت، سیلابی خطرات، زرعی ضروریات اور توانائی کے مسائل کا حل سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سائنسی تحقیق، شفاف اعدادوشمار اور تمام صوبوں کے اتفاق رائے سے تلاش کیا جا سکتا ہے؟ چین کا تجربہ مراد علی شاہ کے لیے مطالعے اور استفادے کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔

یہ دورہ ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان میں ڈیموں، آبی ذخائر اور نہری منصوبوں پر بحث کو سیاسی نعروں کے بجائے ٹھوس حقائق اور قابلِ عمل تجاویز کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں