موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو سائیڈ مرر کے نہ اترنے والے راڈز لگانے کا پابند بنایا جائے، لاہور ٹریفک پولیس

موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو سائیڈ مرر کے نہ اترنے والے راڈز لگانے کا پابند بنایا جائے، لاہور ٹریفک پولیس
حکام کا سیکرٹری صنعت پنجاب کو خط
لاہور: ٹریفک حادثات میں کمی اور موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے لاہور ٹریفک حکام نے موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو سائیڈ ویو مررز کے نہ اترنے والے راڈز لگانے کا پابند بنانے کی تجویز دے دی ہے۔
اس سلسلے میں چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے سیکرٹری صنعت پنجاب کو خط لکھ کر موٹر سائیکلوں کے مینوفیکچرنگ معیار میں تبدیلی کی سفارش کی ہے، جس کے تحت سائیڈ ویو مررز کو سہارا دینے والی راڈ موٹر سائیکل کے ساتھ مستقل طور پر نصب کی جائے تاکہ سوار اسے آسانی سے اتار نہ سکیں۔
پرو پاکستانی کے مطابق خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موٹر سائیکلوں پر سائیڈ ویو مررز کی عدم موجودگی سڑکوں پر حادثات کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ سواروں کو لین تبدیل کرتے وقت پیچھے اور اطراف سے آنے والی ٹریفک کا درست اندازہ نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں تصادم کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
ٹریفک حکام کے مطابق لاہور میں ٹریفک کے 62 فیصد حادثات لین تبدیل کرتے وقت پیچھے سے آنے والی ٹریفک کا جائزہ نہ لینے اور مناسب اشارہ نہ دینے سے متعلق ہیں۔ سائیڈ ویو مررز کی موجودگی موٹر سائیکل سواروں کو اطراف اور پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر کے مطابق موٹر سائیکل سواروں میں ہیلمٹ کے استعمال کے حوالے سے بھی بہتری آئی ہے۔ ماڈل سڑکوں پر ہیلمٹ پہننے کی شرح 97 فیصد جبکہ دیگر سڑکوں پر 88 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ تاہم سواروں کی حفاظت کے لیے ہیلمٹ کے ساتھ سائیڈ ویو مررز کا استعمال بھی ضروری ہے۔
مجوزہ اقدام کا مقصد موٹر سائیکل ساز کمپنیوں کو ایسے حفاظتی انتظامات کا پابند بنانا ہے جن سے سائیڈ ویو مررز اتارنے کا رجحان کم ہو اور موٹر سائیکل سوار لین تبدیل کرنے سے پہلے پیچھے آنے والی ٹریفک کا جائزہ لے سکیں۔
ٹریفک حکام نے متعلقہ محکمے سے سفارش کی ہے کہ موٹر سائیکلوں کے مینوفیکچرنگ معیار میں ضروری تبدیلیوں کا جائزہ لے کر اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
