موجودہ پیش رفت محض پہلا مرحلہ ہے، آنے والے دنوں میں پارٹ 2، 3 اور 4 ابھی باقی ہیں، پارٹ 5 بھی ہو سکتا ہے، فیصل واوڈا

موجودہ پیش رفت محض پہلا مرحلہ ہے، آنے والے دنوں میں پارٹ 2، 3 اور 4 ابھی باقی ہیں، پارٹ 5 بھی ہو سکتا ہے، فیصل واوڈا
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ موجودہ پیش رفت محض پہلا مرحلہ ہے، آنے والے دنوں میں پارٹ 2، 3 اور 4 ابھی باقی ہیں، جبکہ پارٹ 5 بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورت حال، صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ، پاکستان تحریک انصاف کی سیاست اور نئے انتظامی بندوبست کے حوالے سے اہم بیانات دیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے اور اس مقصد کے لیے انتظامی سطح پر مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ تاہم، ان کے بیان میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ نئے انتظامی بندوبست کے لیے 180 دن اہم قرار
فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا کے نئے انتظامی بندوبست اور گورنر فیصل کریم کنڈی کی کارکردگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب نتائج سامنے آنے چاہییں اور ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے 180 دن کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی ٹیم کو اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ انتظامی بندوبست مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا تو زیادہ اہل افراد کو ذمہ داریاں دینے کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو امن و امان، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری درکار ہے، اس لیے حکومتی کارکردگی کو عملی نتائج کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔ پی ٹی آئی پر تنقید، مزید اقدامات کا عندیہ
فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی اور خیبر پختونخوا میں اس کی سابقہ صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی سیاسی حیثیت کمزور ہو چکی ہے اور گزشتہ 13 برس کے دوران صوبے میں حکمرانی کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے حوالے سے بھی دعوے کیے اور کہا کہ 27 ستمبر کو صوبائی کابینہ کے آٹھ ارکان ان کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے بقول، موجودہ صورت حال کو صرف پہلا مرحلہ سمجھا جائے اور آئندہ مراحل میں مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان ممکنہ اقدامات کی تفصیلات یا کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں بتائی۔ قومی پرچم اور قومی ترانے کے احترام پر زور
فیصل واوڈا نے قومی پرچم اور قومی ترانے کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی علامات کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے سکیورٹی اداروں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات ان کے سامنے بھی رکھے جائیں گے۔ تاہم، انہوں نے اس حوالے سے کسی باضابطہ ملاقات یا طے شدہ لائحہ عمل کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی معاملہ نہیں اور ان کے مطابق توجہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی اقدامات کی کامیابی کا فیصلہ ان کے نتائج سے ہوگا، جبکہ آنے والے دنوں میں سیاسی اور انتظامی صورت حال میں مزید پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔
