مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 10 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,735 USD/PKR 276.88 EUR/PKR 310.27 GBP/PKR 366.32 سونا/تولہ 435,634 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,735
قومی

ترکیہ کے حالیہ اقدامات اسے یورپی یونین کی رکنیت سے مزید دور لے جا رہے ہیں، کمشنر برائے توسیع

📅 ہفتہ، 10 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ترکیہ کے حالیہ اقدامات اسے یورپی یونین کی رکنیت سے مزید دور لے جا رہے ہیں، کمشنر برائے توسیع
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

*ترکیہ کے حالیہ اقدامات اسے یورپی یونین کی رکنیت سے مزید دور لے جا رہے ہیں، کمشنر برائے توسیع*

استنبول: یورپی یونین کی کمشنر برائے توسیع مارتا کوس نے کہا ہے کہ ترکیہ میں حالیہ اقدامات، ذرائع ابلاغ کی آزادی پر پابندیاں اور مقامی جمہوریت سے متعلق پیش رفت اسے یورپی یونین کی رکنیت کے ہدف سے مزید دور لے جا رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارتا کوس نے جمعے کو ترکیہ کے شمال مغربی صوبے ادرنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ترکیہ کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے، تاہم جمہوری معیارات سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی، ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کے حقوق اور مقامی جمہوریت سے متعلق حالیہ پیش رفت پر یورپی یونین کو شدید تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق یورپی یونین کی 28 اکتوبر کو جاری ہونے والی توسیعی رپورٹ میں بھی ان معاملات پر خدشات کا اظہار کیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق ترکیہ میں گزشتہ ہفتے ایک عدالت نے آزاد خبر رساں ادارے ٹی 24 کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی روکنے کا حکم دیا تھا۔ حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ ادارے نے گزشتہ ایک سال کے دوران 118 ایسی تحریریں شائع کیں جنہیں ایل جی بی ٹی پروپیگنڈا قرار دیا گیا۔ یہ کارروائی ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی تھی۔

ترکیہ کی حکومت ایسے اقدامات کو بچوں کے تحفظ اور خاندانی اقدار کے فروغ سے جوڑتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور یورپی یونین ان پر تنقید کرتی رہی ہیں۔

ترکیہ کو 1999ء میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے امیدوار ملک کا درجہ دیا گیا تھا، تاہم انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور جمہوری معیارات سے متعلق اختلافات کے باعث رکنیت کے عمل میں طویل عرصے سے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

مارتا کوس نے اس کے باوجود ترکیہ کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے بحیرۂ اسود تک پھیلنے سمیت خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال نے ترکیہ کی تزویراتی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ کی اہمیت آج چار سے پانچ سال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اور ترکیہ کے درمیان کسٹمز یونین کے معاہدے کو جدید بنانے اور سرکاری خریداری کے نظام میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر کام جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا اور ترکیہ کی یورپی یونین کے صنعتی و تجارتی پروگراموں میں شرکت کے امکانات بڑھانا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ترک حکومت کی جانب سے مارتا کوس کے بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں