ہرمز کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے تجارتی راستے کی بندش کا خطرہ، حوثیوں کی باب المندب کے قریب پیش قدمی
ہرمز کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے تجارتی راستے کی بندش کا خطرہ، حوثیوں کی باب المندب کے قریب پیش قدمی
صنعا، 11 ستمبر: ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب آبنائے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس بحری گزرگاہ کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، یمنی حکومت کے چار ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں واقع اسٹریٹجک پریم جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جبکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے انخلا کے بعد حوثیوں نے جزیرے کے سامنے واقع بحیرہ احمر کے ساحلی قصبے ذُباب پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بحری تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس پر حوثیوں کی گرفت مضبوط ہونے سے عالمی بحری آمدورفت، تیل کی ترسیل اور خطے کی سکیورٹی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اگر حوثی باب المندب پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو اس سے ان کے سرپرست ایران کو امریکہ کے ساتھ جاری تنازع میں اہم اسٹریٹجک فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے بعد ایک اور اہم بحری راستے میں رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
یمنی حکومت کی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جوابی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے اور موکا سمیت اہم ساحلی علاقوں میں فوجی سازوسامان اور طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی یہ پیش قدمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پہلے ہی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہے، جس کے نتیجے میں باب المندب اور بحیرہ احمر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
