مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,214 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,037 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,214 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,037
دین

توکل علی اللہ: مومن کی طاقت، سکون اور کامیابی کا راز

📅 جمعرات، 20 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‘فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ’ ترجمہ: ‘پھر جب تم پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو، بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔’ (سورۃ آل عمران: 159)۔

توکل علی اللہ کیا ہے؟

توکل علی اللہ کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور غیبی مدد کا انتظار کرے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں حقیقی توکل یہ ہے کہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق درست تدبیر اختیار کرے، جائز اسباب استعمال کرے، پوری محنت کرے، دعا مانگے اور پھر اپنے نتائج اللہ کے سپرد کر دے۔ سورۃ آل عمران کی مذکورہ آیت میں توکل سے پہلے مشاورت اور فیصلہ کا ذکر ہے، جس کا مطلب ہے کہ پہلے سوچو، مشورہ کرو، اپنی ذمہ داری پوری کرو، پھر اللہ پر بھروسہ رکھو۔ جیسے کہ عوام کی رقم کرپشن کی نذر نہیں ہونے دیں گے، اسی طرح اپنی زندگی کے معاملات میں بھی دیانتداری اور محنت ہی کامیابی کی کلید ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو اللہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں۔ (جامع ترمذی، 2344)۔ اس میں سبق یہ ہے کہ توکل، کوشش چھوڑ دینے کا نام نہیں بلکہ کوشش کے بعد اللہ پر اعتماد کا نام ہے۔

توکل انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے

جو شخص اللہ پر حقیقی بھروسہ کرتا ہے، وہ حالات کا غلام نہیں بنتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ رزق، عزت اور کامیابی کا اصل اختیار اللہ کے پاس ہے۔ مومن مخلوق سے جائز مدد تو لیتا ہے، مگر اس کا دل خالق سے وابستہ رہتا ہے۔ جیسا کہ آج کل کے دور میں ٹک ٹاک کا ڈائریکٹ میسجز کے ذریعے رقم کی منتقلی کا منصوبہ جیسے مادی ذرائع سامنے آ رہے ہیں، مومن ان وسائل کو استعمال ضرور کرتا ہے لیکن انہیں مؤثرِ حقیقی نہیں سمجھتا۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جب مانگو تو اللہ سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔ یہ تعلیم انسان کے دل سے غیر ضروری خوف نکال دیتی ہے۔

توکل اور مضبوط ایمان

صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔ اسلام ہمیں سست اور بے عمل نہیں بناتا بلکہ بااعتماد اور باہمت بناتا ہے۔ توکل کرنے والا ناکامی پر مایوس نہیں ہوتا، وہ اپنی غلطی سے سبق لیتا ہے اور ہر کامیابی کو اللہ کا فضل سمجھتا ہے۔

توکل ہمیں حسد اور لالچ سے بھی بچاتا ہے

جب انسان کا یقین مضبوط ہو جائے کہ اس کا رزق اور مستقبل اللہ کے اختیار میں ہے تو وہ دوسروں کی دولت دیکھ کر بے چین نہیں ہوتا اور نہ ہی حرام راستوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ توکل دل کو یہ اطمینان دیتا ہے کہ جو نصیب میں ہے وہ مل کر رہے گا اور جو نہیں، اسے کوئی طاقت حاصل نہیں کروا سکتی۔

توکل کا مطلب اسباب چھوڑنا نہیں

اسلام ہمیں اسباب اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔ بیماری میں علاج، روزگار کے لیے محنت، اور سفر کے لیے تیاری کرنا ضروری ہے۔ تاہم، ان کوششوں کے ساتھ دل کا اعتماد صرف اللہ پر ہونا چاہیے۔ اکثر علماء اس مفہوم کو ‘اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو’ کے اصول سے سمجھاتے ہیں۔ آج کل کی دنیا میں جیسے ٹریفک مینجمنٹ: لاہور نے سفری وقت میں 149 شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا، یہ بھی ایک تدبیر ہے جس پر محنت کی گئی، اور اسی طرح کے معاملات میں توکل عین ایمان ہے۔

آخر میں ایک عظیم قرآنی دعا

اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آخری آیت میں فرماتا ہے: ‘فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ’ ترجمہ: ‘پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے: میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔’ (سورۃ التوبہ: 129)۔ حقیقی توکل یہی ہے کہ ہاتھ میں محنت، ذہن میں تدبیر، زبان پر دعا اور دل میں اللہ کا بھروسہ ہو۔

ٹیگز: #اسلامی تعلیمات #ایمان #توکل #روحانیت #صبر و شکر
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں