مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,038 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,186 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,038 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,186
عالمی

ایران کے خلاف معاشی کارروائی داخلی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش

📅 جمعرات، 20 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
ایران کے خلاف معاشی کارروائی داخلی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ تہران/واشنگٹن: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات اور عالمی سطح پر ایران کو تنہا کرنے کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی نئی معاشی مہم نہ صرف ناکام پالیسیوں کا تسلسل ہے بلکہ امریکہ کی اپنی داخلی معاشی مشکلات سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے خلاف ’’انتہائی تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی سنگین معاشی نتائج کی دھمکی دی ہے۔

امریکہ کی اقتصادی دہشت گردی

عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کی جانب سے اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور تجارتی تنہائی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی خطے میں استحکام پیدا کرنے کے بجائے عالمی معیشت کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ واشنگٹن ماضی میں بھی پابندیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم ان اقدامات سے تہران کو اپنی پالیسیوں سے دستبردار نہیں کیا جا سکا۔ اس صورتحال میں شامی اڈے پر ترک فوجی موجودگی کے خدشے پر اسرائیلی حملے سے قبل موساد چیف نے شامی وزیر خارجہ سے بات کی، رائٹرز کی رپورٹ کے تناظر میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

عالمی تجارت اور ثانوی پابندیاں

تازہ صورتحال میں امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی محاذ کو بھی مزید فعال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی حمایت یا اس کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنے والے ممالک کے خلاف بھی سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اس اقدام سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، بینکوں، شپنگ کمپنیوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ثانوی پابندیوں کا دائرہ چین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں تک پھیلایا گیا تو اس کے عالمی تجارت اور امریکہ کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بیلسٹک میزائل حملے کے بعد یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

آبنائے ہرمز اور توانائی منڈی کا بحران

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمز بھی ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ خطے میں جاری تنازع کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکام ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایران پابندیوں اور بحری دباؤ کو اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیتا ہے۔

سفارتی کوششیں اور مستقبل کا لائحہ عمل

عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی اور سیاسی راستے بھی استعمال کرے گا۔ ایران کی جانب سے ماضی میں بھی یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ مذاکرات کو کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ تہران نے ثالث ممالک کے ذریعے رابطوں کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، تاہم ایران کا کہنا ہے کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کے لیے امریکی اقدامات، پابندیوں اور معاشی دباؤ میں تبدیلی ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی جنگ کو مزید وسیع کیا اور اس کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز یا خطے میں مزید سخت اقدامات کیے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں، شپنگ اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایرانی حملے خطرناک کشیدگی کی علامت، تجارتی جہازوں کی سلامتی کو براہِ راست خطرہ ہے: سعودی عرب نے بھی اس خطرے کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ معاشی دباؤ کے ذریعے کسی ملک کو سیاسی فیصلوں پر مجبور کرنے کی کوشش طویل مدت میں مسائل حل کرنے کے بجائے تنازع کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ نئی معاشی حکمت عملی کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے مطلوبہ سیاسی اور سکیورٹی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یوں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی، سفارتی اور عالمی تجارت کے میدان تک پھیل چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی نئی پابندیوں اور تہران کے ردعمل سے یہ واضح ہوگا کہ دونوں ممالک تصادم کو مزید بڑھاتے ہیں یا مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ عمل سیاسی حل کی طرف واپس آتے ہیں۔

ٹیگز: #آبنائے ہرمز #ایران امریکہ تعلقات #عباس عراقچی #معاشی پابندیاں
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں