مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 23°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,538 PKR Bitcoin $80,061 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 418,538 PKR Bitcoin $80,061
قومی

ساحلی برادریوں کا روایتی علم موسمیاتی موافقت کیلئے ناگزیر، جنید انوار

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
ساحلی برادریوں کا روایتی علم موسمیاتی موافقت کیلئے ناگزیر، جنید انوار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ساحلی برادریوں کے روایتی ماحولیاتی علم کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے موسمیاتی موافقت، سمندری تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کو تقویت مل سکتی ہے۔ وزارت بحری امور کی جانب سے اقوام متحدہ کے 2026 کے تھیم کے تحت منائے جانے والے مقامی افراد کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے روایتی اور مقامی علمی نظام کی وسیع اہمیت اور نسلوں میں ان کی منتقلی کو اجاگر کیا۔

ساحلی برادریوں کا کردار اور اہمیت

انہوں نے کہا کہ روایتی ساحلی برادریوں نے لہروں، ماہی گیری کے میدانوں، سمندری انواع، موسم کے نمونوں، مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے بارے میں نسلوں کو علم منتقل کیا۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ روایتی علم محض ماضی کی میراث نہیں، یہ ایک زندہ وسیلہ ہے جو موسمیاتی لچک، پائیدار ماہی گیری اور ہمارے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی اور انڈس ڈیلٹا سے لے کر گوادر اور جیوانی تک ساحل کے ساتھ رہنے والی کمیونٹیز ماہی گیری، مینگرووز، ویٹ لینڈز اور دیگر سمندری وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

ساحلی علاقوں کو درپیش چیلنجز

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی کی ساحلی بستیوں میں ماہی گیری کی کمیونٹیز کو شہر کاری، آلودگی اور رہائش گاہوں کی تباہی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے جب کہ انڈس ڈیلٹا کی کمیونٹیز میٹھے پانی کی قلت، کٹاؤ اور ماہی گیری میں تبدیلی کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل پر روایتی ماہی گیر برادریوں کو بھی اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سونمیانی، اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیوانی شامل ہیں۔

جدید سائنس اور روایتی علم کا امتزاج

محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مقامی ماہی گیروں کو سمندری طوفانوں، ہواؤں، ماہی گیری کے موسم اور سمندری انواع میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی علم ہوتا ہے، اس طرح کے علم کو سائنسی تحقیق کے ساتھ مربوط کرنے سے ماہی گیری کے انتظام، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری میں بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنس اور روایتی ماحولیاتی علم کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنی چاہیے۔

پاکستان کی بلیو اکانومی اور مستقبل کا لائحہ عمل

وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی سمندری درجہ حرارت، مچھلیوں کی تقسیم، بارشوں، نمکیات، ساحلی کٹاؤ اور انتہائی موسم میں تبدیلیوں کے ذریعے روایتی طرزِ معاش کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کمیونٹی پر مبنی موافقت کے اقدامات، مضبوط قبل از وقت انتباہی نظام، آب و ہوا کے لیے لچکدار ساحلی انفراسٹرکچر اور پائیدار ماہی گیری کے انتظام پر زور دیا۔ محمد جنید انوار چوہدری نے ساحلی برادریوں کو ان کے قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تحفظ کی پالیسیاں اس وقت زیادہ موثر ہوں گی جب مقامی لوگوں کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ اور سمندری تحفظ کے اقدامات لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ساحلی لچک کو مضبوط بنانے کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کی سمندری اور موسمیاتی پالیسی میں روایتی علم اور کمیونٹی کی شرکت کی عکاسی ہو۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں