مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,551 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,551
قومی

پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دان اور سابق چیئرمین پرویز بٹ انتقال کر گئے

📅 پیر، 27 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنس دان اور سابق چیئرمین پرویز بٹ انتقال کر گئے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے سابق چیئرمین، ممتاز ایٹمی سائنس دان، ماہر مکینیکل انجینئر اور منتظم پرویز بٹ، نشانِ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور ستارۂ امتیاز، 84 برس کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات سے پاکستان کا سائنسی، جوہری اور اسٹریٹجک شعبہ ایک ایسی قد آور شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جس نے ملک کے جوہری پروگرام کی ترقی اور تکنیکی خود انحصاری میں بے مثال اور نمایاں کردار ادا کیا۔ حال ہی میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی اہم ٹیلی فونک گفتگو کے تناظر میں ملک کے جوہری پروگرام کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے، جس میں پرویز بٹ جیسے ماہرین کی خدمات کا کلیدی کردار رہا ہے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی رکن

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پرویز بٹ پاکستان کے اسٹریٹجک اور جوہری پروگرام کے بانی ارکان میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ ملک میں جوہری سائنس، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھا۔ ان کی دور اندیش قیادت، فنی مہارت اور قومی خدمت کے جذبے نے پاکستان کی سائنسی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی تعاون بڑھانے پر اتفاق جیسی کاوشوں کے ذریعے سائنسی ترقی کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

پرویز بٹ کا علمی اور پیشہ ورانہ سفر

پرویز بٹ نے مئی 1963 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں شمولیت اختیار کی اور 43 برس سے زائد عرصے تک ادارے میں مختلف سائنسی، انجینئرنگ اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ 2001 سے 2006 تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین رہے، جہاں ان کی قیادت میں نیوکلیئر پاور پروگرام، مقامی جوہری ایندھن کے سائیکل، انجینئرنگ صلاحیتوں اور اسٹریٹجک منصوبوں کو مزید وسعت ملی۔ ان کی کاوشوں سے صحت، زراعت، صنعت، تحقیق اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کو بھی فروغ ملا۔

وفات تک قومی خدمات کا تسلسل

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے قومی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ 2006 سے 2008 تک وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی میں وفاقی سیکریٹری رہے، بعد ازاں پلاننگ کمیشن میں جوہری توانائی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جبکہ اپنی وفات تک نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (SPD) کے مشیر کے طور پر اسٹریٹجک اور جوہری امور پر رہنمائی فراہم کرتے رہے۔ قوم کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ امتیاز (1998)، ہلالِ امتیاز (1999) اور نشانِ امتیاز (2015) سے نوازا گیا، جو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی رحلت پر سائنسی، دفاعی اور حکومتی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

ٹیگز: #پاکستان #پاکستان اٹامک انرجی کمیشن #پرویز بٹ #جوہری پروگرام #سائنسی خدمات
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں