اسرائیل غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی پر آمادہ

تل ابیب/واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے قانونی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اس فورس کی غزہ میں تعیناتی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
مجوزہ سکیورٹی فورس کی تشکیل اور خدوخال
رپورٹ کے مطابق مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) میں تقریباً 200 اہلکار شامل ہوں گے، جو یوگنڈا اور مراکش سمیت اسرائیل کے دوست ممالک سے آئیں گے۔ یہ فورس غزہ کے ان علاقوں میں تعینات کی جائے گی جو اسرائیلی کنٹرول میں نہیں ہیں، تاہم ہر ملک کے دستے کی تعیناتی کے لیے اسرائیل کی علیحدہ منظوری درکار ہوگی۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا: قیصر شیخ کے بیانات کی طرح ہی بین الاقوامی معاملات میں بھی پیچیدہ قانونی تقاضے دیکھے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو کا دورہ واشنگٹن اور ٹرمپ سے ملاقات
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پیر کو واشنگٹن روانہ ہوں گے، جہاں منگل کو ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں غزہ کی صورتحال اور جنگ بندی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی وزیر دفاع کے ترک اور جنوبی افریقی ہم منصبوں سے رابطے جیسے اقدامات بھی خطے میں امن کی کوششوں کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
جنگ بندی منصوبے میں رکاوٹیں
ٹرمپ کے امن منصوبے میں غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل عبوری سول انتظامیہ، حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کی تجاویز شامل ہیں، تاہم منصوبے پر عمل درآمد تاحال تعطل کا شکار ہے۔ حماس نے اب تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ میں اپنے زیر کنٹرول علاقے کو مزید وسعت دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ اسی طرح کے پیچیدہ عالمی مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پرویز اقبال لوہسر کے نقطہ نظر کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کا بڑا حصہ دو سالہ جنگ کے باعث تباہ ہو چکا ہے اور تقریباً 20 لاکھ فلسطینی انتہائی مشکل انسانی حالات میں خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
