مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,622 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,622
بزنس

خرم شہزاد کی ٹیکس اصلاحات اور نئے ٹیکس ماڈل پر بریفنگ

📅 اتوار، 26 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
خرم شہزاد کی ٹیکس اصلاحات اور نئے ٹیکس ماڈل پر بریفنگ (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر جناب خرم شہزاد نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ چار روزہ قومی ٹیکس سیمینار سے خطاب کیا۔ خطاب میں پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال، حکومت کے جاری ساختی اصلاحاتی ایجنڈے، مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی ترجیحات اور نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے نفاذ پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔ سیمینار میں صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن جناب احسان الحق شیخ، صدر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن جناب رانا ثاقب منیر، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سرپرست اور چیئرمین پاکستان ٹیکس بار اکیڈمی جناب عبدالقادر میمن، مہمانِ خصوصی ممبر اپیلیٹ ٹریبونل اِن لینڈ ریونیو جناب ظہور احمد، معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر ندیم الحق سمیت ملک بھر سے سینئر ٹیکس ماہرین، وکلاء، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ٹیکس شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ نے معاشی استحکام پر زور دیا مشیر نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ مالی نظم و ضبط اور مشکل مگر ناگزیر ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایف بی آر اصلاحات، کیش لیس معیشت پر تیزی سے کام جاری، محمد اورنگزیب کے ویژن کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کی مضبوطی، بہتر قرضہ جاتی نظم و نسق اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی نے پاکستان کو معاشی استحکام سے پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اصلاحات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس کا اظہار پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی خودمختار کریڈٹ ریٹنگز، آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزوں، بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مثبت آراء سے ہوتا ہے۔ بجٹ 2026-27 اور ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈا مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک متوازن، ذمہ دارانہ اور ترقی دوست بجٹ ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، رانا تنویر، اسی تناظر میں حکومت نے کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کی مسابقت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، ٹیرف اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، نہ کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔ نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل مشیر نے کہا کہ نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے تحت روایتی افسر پر مبنی نظام کو ڈیٹا پر مبنی، ٹیکنالوجی سے آراستہ، فیس لیس، شفاف اور زیادہ جوابدہ نظام میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ماڈل کے تحت آڈٹ، اسیسمنٹ اور فیلڈ آپریشنز کو الگ الگ خصوصی شعبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، جس سے اختیارات کے غیر ضروری استعمال اور صوابدیدی فیصلوں کو کم کیا جائے گا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی برطانوی ہاوس آف لارڈز کے رکن سے ملاقات کے تناظر میں ہونے والی بین الاقوامی پیش رفتوں کی طرح، ٹیکس بار ایسوسی ایشنز اور ٹیکس پریکٹیشنرز کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ اصلاحات کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل مشاورت ناگزیر ہے۔ سیمینار میں ڈاکٹر ندیم الحق نے ٹیکس پالیسی اصلاحات پر کلیدی خطاب کیا، جبکہ ایف سی اے محمد ریحان صدیقی نے فیس لیس جیورسڈکشن اور ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن پر پریزنٹیشن دی۔

خرم شہزاد کی ٹیکس اصلاحات اور نئے ٹیکس ماڈل پر بریفنگ (تصویر 2)
خرم شہزاد کی ٹیکس اصلاحات اور نئے ٹیکس ماڈل پر بریفنگ (تصویر 3)
ٹیگز: #ایف بی آر #ٹیکس اصلاحات #خرم شہزاد #معاشی استحکام #وزارت خزانہ
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں