سعودی عرب میں غیر قانونی مقیم 15 ہزار افراد گرفتار کر لیے گئے

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب میں رہائشی، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری ملک گیر مہم کے دوران ایک ہی ہفتے میں تقریباً 15 ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ کارروائیاں 16 سے 22 جولائی 2026 کے دوران مختلف سرکاری اداروں کے مشترکہ آپریشنز کے تحت انجام دی گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 14 ہزار 970 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 8 ہزار 987 افراد رہائشی قوانین، 3 ہزار 985 سرحدی قوانین اور ایک ہزار 998 افراد لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
غیر قانونی داخلے اور سہولت کاری کی روک تھام
وزارتِ داخلہ کے مطابق اسی مدت کے دوران ایک ہزار 177 افراد غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے، جبکہ 74 افراد کو غیر قانونی طریقے سے مملکت سے باہر جانے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔ حکام نے مزید بتایا کہ 31 افراد ایسے بھی گرفتار کیے گئے جن پر غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے، ملازمت فراہم کرنے، نقل و حمل یا دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا الزام ہے۔
سخت قانونی سزائیں اور انتباہ
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات اور ایف بی آر اصلاحات، کیش لیس معیشت پر تیزی سے کام جاری، محمد اورنگزیب کے ویژن کے تحت مملکت بھر میں شفافیت لائی جا رہی ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کو قید، بھاری جرمانوں، گاڑیوں اور جائیداد کی ضبطگی سمیت سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رہائشی، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مملکت میں قانون کی عملداری اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں حالیہ اقدامات کو برآمدات میں اضافہ معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، رانا تنویر کے بیان کی روشنی میں ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اسی طرح کی سختیاں عمرہ زائرین کی تعداد میں پاکستان سرفہرست، سعودی عرب اعداد و شمار جاری کرنے والے حکام کی جانب سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بھی جاری ہیں۔
