مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532
بزنس

متحدہ عرب امارات کا آبنائے ہرمز کے متبادل بندرگاہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ

📅 ہفتہ، 25 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
متحدہ عرب امارات کا آبنائے ہرمز کے متبادل بندرگاہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

دبئی (نمائندہ خصوصی)۔ متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے باہر اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر دو نئی تجارتی بندرگاہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عالمی تجارتی راستوں کو زیادہ محفوظ بنانا، علاقائی سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور دنیا کے حساس ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا ہے۔ خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے متبادل سات آئل پائپ لائن منصوبے شروع کر رکھے ہیں جس سے اس خطے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ڈی پی ورلڈ اور فجیرہ پورٹس اتھارٹی کا معاہدہ

عالمی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے فجیرہ پورٹس اتھارٹی کے ساتھ 50 سالہ رعایتی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت خلیج عمان کے ساحل پر الرغیلات کنٹینر اینڈ ملٹی پرپز ٹرمینل اور دبا جنرل کارگو ٹرمینل تعمیر کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کو متحدہ عرب امارات کی حالیہ برسوں کی اہم ترین بحری انفراسٹرکچر سرمایہ کاری قرار دیا جا رہا ہے۔

نئی بندرگاہوں کا بنیادی مقصد عالمی شپنگ کمپنیوں کو ایسا متبادل راستہ فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر براہ راست بین الاقوامی سمندری راستوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی سلامتی اور عالمی توانائی و تجارت پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

منصوبے کی تکنیکی صلاحیت اور اہمیت

منصوبے کے تحت الرغیلات ٹرمینل سالانہ تقریباً 25 لاکھ ٹی ای یوز (TEUs)، 17 لاکھ ٹن جنرل کارگو اور ایک لاکھ 90 ہزار گاڑیوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا، جبکہ دبا جنرل کارگو ٹرمینل سالانہ 36 لاکھ ٹن جنرل کارگو کی ہینڈلنگ کر سکے گا۔ ان منصوبوں سے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ان نئی سہولتوں کی تکمیل کے بعد ڈی پی ورلڈ کی مجموعی کنٹینر ہینڈلنگ صلاحیت 1 کروڑ 94 لاکھ ٹی ای یوز سے بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ ٹی ای یوز تک پہنچ جائے گی، جس سے متحدہ عرب امارات عالمی لاجسٹکس، شپنگ اور ٹرانس شپمنٹ کے اہم ترین مراکز میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لے گا۔

مستقبل کی حکمت عملی اور نیٹ ورک

منصوبے پر تعمیراتی کام مختلف مراحل میں آئندہ دو سے تین برس کے دوران مکمل کیا جائے گا۔ نئی بندرگاہوں کو جبل علی پورٹ اور جبل علی فری زون (JAFZA) کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ ملک کے مغربی اور مشرقی ساحلی علاقوں کے درمیان ایک مربوط اور مؤثر لاجسٹکس نیٹ ورک قائم کیا جا سکے۔ امریکی تجارتی ٹیرف کے اثرات: پاکستان کے ڈالر بانڈز کی قدر میں گراوٹ کے تناظر میں، خطے کی یہ معاشی پیش رفت خاصی اہمیت کی حامل ہے۔

بحری تجارت کے ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سپلائی چین کو زیادہ مضبوط، محفوظ اور پائیدار بنانا ہے۔ خلیج عمان پر واقع فجیرہ کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم متبادل گیٹ وے بناتی ہے، کیونکہ یہاں سے جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے بغیر عالمی سمندری راستوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی بندرگاہیں جبل علی پورٹ کا متبادل نہیں بلکہ اس کی تکمیل کریں گی۔ اس سے شپنگ کمپنیوں کو زیادہ لچکدار آپریشنل سہولتیں میسر آئیں گی اور متحدہ عرب امارات ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان عالمی تجارت اور لاجسٹکس کے مرکزی مرکز کے طور پر اپنی اہمیت مزید بڑھا سکے گا۔ اس حوالے سے ایران سے مذاکرات جاری، سعودی عرب کے لیے ٹرمپ کی نئی شرط جیسے واقعات بھی خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی و تجارتی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ٹیگز: #آبنائے ہرمز #بحری تجارت #ڈی پی ورلڈ #فجیرہ #متحدہ عرب امارات
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں