مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,818 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,818
بزنس

یورپی یونین کا گوگل پر 890 ملین یورو کا بھاری جرمانہ

📅 ہفتہ، 25 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
یورپی یونین کا گوگل پر 890 ملین یورو کا بھاری جرمانہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

برسلز (نمائندہ خصوصی)۔ یورپی یونین نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر 890 ملین یورو (تقریباً 759 ملین پاؤنڈ) کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے اپنے سرچ انجن اور پلے اسٹور میں اپنی ہی سروسز اور ایپس کو حریف کمپنیوں پر غیر منصفانہ برتری دی، جس سے مسابقت کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری سخت ضابطہ کاری کا حصہ ہے۔

ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کا نفاذ

یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کے تحت گوگل کے خلاف یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے صارفین کے انتخاب کو محدود کیا اور اپنی سروسز کو ناجائز فائدہ پہنچایا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ دنیا بھر میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ضوابط پر بحث جاری ہے۔

جرمانے کی تفصیلات

اس بھاری جرمانے میں 460 ملین یورو اس بنیاد پر عائد کیے گئے کہ گوگل نے فلائٹس اور ہوٹل بکنگ سے متعلق اپنی سروسز کو سرچ نتائج میں حریف کمپنیوں پر ترجیح دی۔ جبکہ مزید 430 ملین یورو اس لیے جرمانہ کیا گیا کہ گوگل پلے اسٹور کے سخت قواعد صارفین کو گوگل کے پلیٹ فارم سے باہر دستیاب سستے متبادل ایپس اور آفرز دیکھنے سے روکتے تھے۔ حکومتی پالیسیوں کے برعکس، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر ٹیکنالوجی مارکیٹ میں بھی شفافیت کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

گوگل کا موقف اور جوابی ردعمل

دوسری جانب گوگل نے اس فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کی نئی شرائط سے لاکھوں یورپی صارفین متاثر ہوں گے۔ کمپنی کے مطابق ان قوانین پر عمل کرنے کے لیے سرچ کی کئی فوری سہولیات، جیسے ہوٹل، پروازوں اور ریستورانوں کی براہِ راست قیمتیں اور دستیابی، کو محدود کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس معاملے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات کی طرح عالمی سطح پر سفارتی اور قانونی رابطے اہمیت کے حامل ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

یورپی یونین کی مسابقتی امور کی سربراہ ٹریسا ریبیرا نے کہا کہ بہترین مصنوعات کو ان کے معیار کی بنیاد پر کامیاب ہونا چاہیے، نہ کہ اس وجہ سے کہ وہ سرچ انجن چلانے والی کمپنی کی ملکیت ہیں۔ گوگل کو اب یورپی یونین کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے یا عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔

ٹیگز: #تکنیکی خبریں #جرمانہ #ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ #گوگل #یورپی یونین
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں