مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,501 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,501
بزنس

پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت ناگزیر، شزا فاطمہ

📅 جمعہ، 24 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انڈس راس ایکسپو 2026 انتہائی کامیاب رہی اور عالمی معیشت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو روایتی صنعتوں کو جدید آٹومیشن، مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس اور خودکار نظاموں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ صنعتی آٹومیشن پاکستان کی معاشی مسابقت کیلئے ناگزیر ہے، شزہ فاطمہ نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو راس (روبوٹکس اور خودمختار نظاموں) ایکسپو 2026 کے اختتام پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو میں 20 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، اور انہوں نے اس کامیابی پر منتظمین، صنعتی اداروں، جامعات اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

عالمی منڈی اور نالج اکانومی

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا تیزی سے صنعتی معیشت سے نالج اکانومی کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجیز ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف ٹیکسوں میں رعایت یا بجلی سستی کرنا کافی نہیں، بلکہ قومی صنعت کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب ایسی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں جہاں روبوٹس انسانی مداخلت کے بغیر پیداوار جاری رکھتے ہیں، لہٰذا پاکستان کو بھی اسی سمت میں پیش رفت کرنا ہوگی۔

ایکسپو کے مقاصد اور حکومت کا لائحہ عمل

شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ایکسپو کا مقصد پاکستان کی قومی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا، جس کے لیے 500 سے زائد درخواستوں میں سے 54 کمپنیوں اور 10 اسٹارٹ اپس کو اپنی ٹیکنالوجی پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت، جامعات اور نوجوانوں کے درمیان روابط قائم کر رہی ہے تاکہ تحقیق اور صنعتی ضروریات کو ایک دوسرے سے جوڑا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے تاکہ صنعتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے آگاہ کیا جا سکے۔ حکومت ایسے سمولیٹرز بھی تیار کرے گی جہاں صنعتکار اپنی پیداواری لائنوں کو آٹومیشن کے ذریعے آزما سکیں گے۔

مستقبل میں روزگار کے مواقع

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ آٹومیشن سے روزگار ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشینیں انسانوں کی جگہ نہیں لیں گی بلکہ ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی۔ مستقبل میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھتے ہوں گے۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر میں جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دیں، کیونکہ یہی شعبے پاکستان کی عالمی مسابقت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ دو روزہ ایکسپو کے دوران روبوٹکس، دفاعی ٹیکنالوجیز، اور صنعتی آٹومیشن سے متعلق سیمینارز اور تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔ شزا فاطمہ خواجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے ایونٹس کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک باصلاحیت ملک کے طور پر ابھر سکے۔

ٹیگز: #انڈس راس ایکسپو #شزا فاطمہ خواجہ #صنعتی آٹومیشن #مصنوعی ذہانت #معیشت پاکستان
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں