پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن کیلئے تعاون جاری رکھیں گے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے نیز بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور پورے خطے میں قانونی سمندری تجارت اور بحری آمدورفت کے بلا تعطل تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔ جمعرات کو ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے بتایا کہ ان کی اپنے عزیز بھائی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔
حوثی حملوں کی شدید مذمت
وزیراعظم نے کہا کہ میں نے بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور سمندری آمدورفت کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ عرصے میں وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ٹیلیفون پر اہم گفتگو کو انتہائی اہمیت دی ہے، جس میں دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی
وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے برادر مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ میں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ پوری ثابت قدمی اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت ہے، اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کے تناظر میں بھی یہ رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مشترکہ عزم کا اعادہ
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور میں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہم خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے، نیز بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور پورے خطے میں قانونی سمندری تجارت اور بحری آمدورفت کے بلا تعطل تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔ ملکی معاشی بہتری کیلئے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافے پر تعریف کی گئی ہے اور سعودی عرب کے ساتھ ان معاملات پر پیش رفت دونوں برادر ممالک کے لیے خوش آئند ہے۔
