مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,694 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,694
قومی

خالد حسین مگسی کا ای سی او سائنس فاؤنڈیشن اجلاس سے خطاب

📅 بدھ، 22 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے اسلام آباد میں ای سی او سائنس فاؤنڈیشن (ECOSF) کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چھٹے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی صراف، وفاقی سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ، ای سی او کے سیکرٹری جنرل سفیر اسد مجید خان، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر سید کمال طیبی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد میمن، سینئر سرکاری حکام اور ای سی او کے رکن ممالک کے ممتاز مندوبین نے بذریعہ بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔ جیسا کہ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور دیا جا چکا ہے، اسی تناظر میں یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

علاقائی سائنسی تعاون کا فروغ

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے اسلام آباد میں موجود معزز مندوبین اور آن لائن شریک ہونے والے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چھٹے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کو سائنسی تحقیق، جدت، علم کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ایک مؤثر علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اجلاس ای سی او کے رکن ممالک کے اس مشترکہ عزم کا مظہر ہے کہ وہ علاقائی سائنسی تعاون کو مزید مستحکم کرتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کو پائیدار ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے بنیادی ستون بنائیں گے۔

مشترکہ چیلنجز اور سائنسی حل

وفاقی وزیر نے کہا کہ ای سی او خطہ نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، مضبوط علمی روایات اور تیزی سے فروغ پاتی تکنیکی صلاحیتوں کے باعث بے پناہ امکانات کا حامل ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی اور غذائی تحفظ، توانائی کی منتقلی، صحتِ عامہ، ڈیجیٹل عدم مساوات اور نوجوانوں میں بے روزگاری جیسے مشترکہ چیلنجز ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے انفرادی قومی کوششوں کے بجائے مشترکہ علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے حصول میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سائنسی تحقیق، STEM تعلیم، اختراعی نظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری خطے کی اقتصادی مسابقت، صنعتی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ کوششیں بالآخر پاکستان کو سام سنگ پاکستان کو موبائل مینوفیکچرنگ اور برآمدات کا مرکز بنائیں، جام کمال کے وژن کے مطابق ایک مضبوط صنعتی مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کا کردار

وفاقی وزیر نے ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے استعداد کار میں اضافے، STEM تعلیم، سائنسی روابط، تکنیکی مشاورتی خدمات اور علاقائی شراکت داری کے فروغ میں ادا کیے گئے اہم کردار کو سراہا۔ انہوں نے ادارے کی قیادت اور سیکریٹریٹ کی ان کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو انہوں نے مالی اور ادارہ جاتی مشکلات کے باوجود فاؤنڈیشن کے مقاصد کے حصول کے لیے جاری رکھیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی نے ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں تعاون خطے کی پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ای سی او سائنس فاؤنڈیشن سے ایران کے بھرپور تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران فاؤنڈیشن کو درپیش مالی مشکلات کے حل کے لیے اپنا حصہ ادا کرے گا اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر ادارے کو مزید مضبوط اور مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے کام کرے گا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے ای سی او کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے چارٹر اور اس کے اضافی پروٹوکول کی توثیق کے عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چارٹر کی توثیق کرنے والے ممالک بروقت مالی تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ فاؤنڈیشن کی طویل المدتی پائیداری برقرار رہے اور وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں مؤثر علاقائی منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھ سکے۔

پاکستان کی حیثیت سے ای سی او سائنس فاؤنڈیشن کے میزبان ملک ہونے کے ناطے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے فاؤنڈیشن پر زور دیا کہ وہ رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق نتیجہ خیز اور طلب پر مبنی پروگرام تشکیل دے تاکہ علاقائی سائنسی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایک مضبوط اور فعال ای سی او سائنس فاؤنڈیشن پورے خطے میں سائنسی تعاون، اختراع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ مزید برآں، ملک میں باغبانی صحت مند اور طویل زندگی کا بہترین ذریعہ، ماہرین کی تصدیق جیسی تحقیقی سرگرمیوں کو بھی علاقائی تعاون کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔

ٹیگز: #پاکستان #خالد حسین مگسی #سائنس و ٹیکنالوجی #علاقائی تعاون
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں