مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.78 EUR/PKR 309.05 GBP/PKR 370.48 سونا/تولہ (عالمی) 402,337 PKR Bitcoin $77,398 USD/PKR 276.78 EUR/PKR 309.05 GBP/PKR 370.48 سونا/تولہ (عالمی) 402,337 PKR Bitcoin $77,398
قومی

مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس پاکستان کی معیشت کا مستقبل ہیں، شزا فاطمہ

📅 ✍️ ⏱ 6 منٹ
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس پاکستان کی معیشت کا مستقبل ہیں، شزا فاطمہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین کا مالک بنے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنا ایک قومی فیصلہ ہے اور ملک اب اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تیار ہے۔ دفاعی ادارے اور صنعتی شعبہ مل کر ڈیجیٹل جدت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو دو روزہ راس (روبوٹکس اور خود کار نظاموں) ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دوراندیش قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے واضح وژن کو اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک شعبہ نہ ہو بلکہ پیداواری صلاحیت، روزگار اور قومی مسابقت کا اصل محرک بنے، کیونکہ سام سنگ پاکستان کو موبائل مینوفیکچرنگ اور برآمدات کا مرکز بنائیں، جام کمال جیسے اقدامات کے ذریعے ہم اپنی صنعتی بنیادوں کو مستحکم کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل تبدیلی اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ دنیا اب ڈیجیٹل دور سے ذہین (Intelligent) دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت حقیقی دنیا کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب ویلیو کری ایشن کی بنیادی بنیاد بن چکی ہے، روبوٹس فیکٹریوں سے نکل کر گوداموں، کھیتوں، سڑکوں، اہم انفراسٹرکچر، آفات زدہ علاقوں اور حتیٰ کہ قومی سلامتی کے شعبوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک ان ٹیکنالوجیز میں قیادت کریں گے وہ مستقبل کی معیشت پر حکمرانی کریں گے جبکہ صرف صارف بننے والے ممالک دوسروں پر انحصار کرتے رہیں گے، اور پاکستان نے قیادت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف گزشتہ روز وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت سے لیس اور شواہد پر مبنی وزیراعظم آفس سسٹم کا افتتاح کیا، جو حکمرانی کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی قیادت نے افواج کو صرف روایتی جنگی قوت سے آگے بڑھاتے ہوئے ایک مضبوط سائبر مرکزیت رکھنے والے ادارے میں تبدیل کیا ہے۔ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام اس وژن پر عمل درآمد کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدت، کاروباری ماحول، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایسا ماحول پیدا کر رہی ہے جہاں جدت کار نئی ایجادات کر سکیں، سٹارٹ اپس ترقی کریں، سرمایہ کار سرمایہ کاری بڑھائیں، نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کریں اور حکومت ایک موثر سہولت کار کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، آئی سی ٹی برآمدات میں اس سال تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا ہے، آئی ٹی یو کے مطابق پاکستان سائبر سکیورٹی میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو گیا ہے، ای گورنمنٹ ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان 14 درجے اوپر آیا، جبکہ آئی ٹی یو آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پاکستان نے 27 درجے بہتری حاصل کی ہے۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی سب سے اہم ٹیکنالوجی ہے جبکہ روبوٹکس اس کا عملی بازو ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز کو استعمال کرے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان کا مالک بنے گا، مقامی صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کی تیاری ہماری خودمختاری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج خودمختاری صرف سرحدوں کے دفاع سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجیز پر ملک کی گرفت اور ملکیت سے بھی ناپی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں مجھے اعتماد دیتی ہیں کہ میں آج آپ کے سامنے بطور وزیر اور وزیراعظم کی ٹیم کے رکن یہ کہہ سکوں کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نوجوانوں کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ مانتی ہے اور اس ضمن میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور جیسے ویژن کے مطابق ہم نے رواں سال تقریباً 10 لاکھ نوجوانوں کو بنیادی ڈیجیٹل مہارتوں سے لے کر جدید سیمی کنڈکٹر اور چپ ڈیزائن تک تربیت دی ہے۔ دوسرا اہم ستون حقیقی ماحول میں ٹیسٹنگ ہے، روبوٹس اس وقت حقیقی معنوں میں مفید ثابت ہوتے ہیں جب وہ فیکٹریوں سے نکل کر عملی ماحول میں کام کریں، ہمیں مزید سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے ہوں گے اور روبوٹکس سسٹمز کو حقیقی حالات میں آزمانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے ستون کے طور پر ڈیٹا خودمختاری انتہائی اہم ہو چکی ہے، مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا، تیز رفتار رابطے، کمپیوٹنگ پاور اور محفوظ انفراسٹرکچر ضروری ہے۔ چوتھے ستون صنعت اور سرمایہ کاری پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعات، صنعت، سٹارٹ اپس، سرمایہ کار اور سرکاری ادارے سب کو ایک مربوط اور منظم انداز میں مل کر کام کرنا ہوگا، جیسا کہ زینتھ پی آر اور آئی او بی ایم کا اسٹریٹجک کمیونیکیشنز میں اشتراک جیسے اشتراک عمل سے قومی ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز دنیا کے اصول بدل رہی ہیں، نئی حقیقتیں تشکیل دے رہی ہیں اور قوموں کو ترقی کی کئی دہائیوں کا سفر مختصر وقت میں طے کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کر رہی ہیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں