مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
بزنس

برطانیہ کی سپر مارکیٹوں میں جدید چہرہ شناس سسٹم کا آغاز

📅 بدھ، 22 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
برطانیہ کی سپر مارکیٹوں میں جدید چہرہ شناس سسٹم کا آغاز (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لندن (نمائندہ خصوصی)۔ برطانیہ کی بڑی سپر مارکیٹوں نے دکانوں میں بڑھتی ہوئی چوری، عملے پر حملوں اور پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے جدید چہرہ شناس (Facial Recognition) نظام متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے افراد کی فوری شناخت ممکن ہوگی جو ماضی میں متعدد بار چوری، تشدد یا دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہے ہوں۔ جیسے امریکہ میں ایئر ٹیکسیوں اور سپر سونک طیاروں کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، ویسے ہی برطانیہ میں بھی ریٹیل سیکٹر ٹیکنالوجی کے نئے استعمال کی طرف بڑھ رہا ہے۔

واچ لسٹ اور سیکیورٹی الرٹ کا طریقہ کار

اس منصوبے کے تحت ہر ریٹیل کمپنی اپنی الگ واچ لسٹ تیار کرے گی، جس میں صرف انہی افراد کے چہرے شامل ہوں گے جن کے خلاف بار بار چوری، عملے کو دھمکانے یا دیگر جرائم کا ریکارڈ موجود ہوگا۔ جیسے ہی واچ لسٹ میں شامل کوئی شخص اسٹور میں داخل ہوگا، داخلی دروازے پر نصب چہرہ شناس کیمرہ اس کی شناخت کرکے سیکیورٹی عملے کو فوری الرٹ بھیج دے گا۔ برطانوی اخبارات The Telegraph، The Guardian اور Financial Times کے مطابق اس نظام کا مقصد عادی جرائم پیشہ افراد کی بروقت نشاندہی کرکے اسٹورز، ملازمین اور خریداروں کو محفوظ بنانا ہے۔

برطانیہ کی سپر مارکیٹوں میں جدید چہرہ شناس سسٹم کا آغاز (تصویر 2)

جدید ٹیکنالوجی اور ریٹیل سیکٹر میں مالی نقصانات

The Guardian، Financial Times اور ٹیکنالوجی کمپنی Auror کی جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ نظام نیوزی لینڈ کی کمپنی Auror فراہم کر رہی ہے، جبکہ برطانیہ کی متعدد معروف ریٹیل چینز اسے مرحلہ وار متعارف کرا رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف جرائم کی روک تھام، ملازمین اور صارفین کے تحفظ اور ریٹیل سیکٹر کو ہونے والے مالی نقصانات میں کمی لانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ ہر الرٹ کے بعد کارروائی کا حتمی فیصلہ تربیت یافتہ سیکیورٹی عملہ کرے گا۔ برطانیہ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران دکانوں میں چوری اور ریٹیل ورکرز پر حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ادارہ جاتی ہم آہنگی ضروری ہے، انعام حیدر کی طرح ریٹیل سیکٹر بھی اب مربوط سیکیورٹی نظام کی جانب متوجہ ہے۔

رازداری اور شہری حقوق پر نئی بحث

دوسری جانب شہری آزادیوں، انسانی حقوق اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چہرہ شناس کیمروں کا استعمال شہریوں کی رازداری، ذاتی معلومات کے تحفظ اور غلط شناخت جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح قوانین، آزاد نگرانی اور شفاف ضوابط متعارف کرائے جائیں۔ ماہرین کے مطابق چہرہ شناس ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور ہوائی اڈوں، سرحدی چوکیوں، بینکوں، اسٹیڈیمز، شاپنگ سینٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پہلے ہی استعمال ہو رہی ہے۔ جیسے فرانس 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا یورپی ملک بنا، اسی طرح برطانیہ میں سپر مارکیٹوں کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کا استعمال سیکیورٹی اور شہری آزادیوں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔

ٹیگز: #برطانیہ #چہرہ شناس ٹیکنالوجی #ڈیجیٹل پرائیویسی #سپر مارکیٹ #سیکیورٹی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں