مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
عالمی

ٹرمپ کا کینیڈا پر پچاس فیصد ٹیرف کا اعلان، تجارتی کشیدگی عروج پر

📅 منگل، 21 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ٹرمپ کا کینیڈا پر پچاس فیصد ٹیرف کا اعلان، تجارتی کشیدگی عروج پر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ نئے محصولات آئندہ 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کئی برسوں سے امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل پر ایسے محصولات اور پابندیاں عائد کرتا ہے جو امریکی برآمد کنندگان کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے یہ اقدام امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔ یہ صورتحال عالمی منڈی میں ایک بار پھر ہلچل مچا رہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے بحیرۂ احمر میں کشیدگی، حوثیوں کی دھمکی کے بعد انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔

ٹیرف کی زد میں آنے والی مصنوعات

نئے ٹیرف کے تحت شراب، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ اور متعدد صنعتی و صارفین کی مصنوعات متاثر ہوں گی، تاہم توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات، مچھلی اور بعض دیگر اسٹریٹجک برآمدات کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اہم سپلائی چینز متاثر نہ ہوں۔ جس طرح حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کیلئے پی ایس او کو نامزد کر دیا ہے، اسی طرح کینیڈا بھی اپنی اہم توانائی اور معدنی سپلائی کو برقرار رکھنے کی تگ و دو میں ہے۔

کینیڈا کا ردعمل اور جوابی حکمت عملی

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تجارتی تنازعات کے حل کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مزید تیزی لائے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی اقدام کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کی روح کے منافی ہے اور یہ یکطرفہ تجارتی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ مارک کارنی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کینیڈا اپنے قومی مفادات اور اقتصادی خودمختاری کا ہر ممکن تحفظ کرے گا، جبکہ امریکی حکام کے حالیہ بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ادھر اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے نئے ٹیرف نافذ کیے تو کینیڈا بھی "ٹیرف کے بدلے ٹیرف، ڈالر کے بدلے ڈالر” کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے متناسب جوابی اقدامات کرے گا۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر امریکی جامعات میں غیر ملکی طلبہ کی داخلہ درخواستوں میں نمایاں کمی جیسی معاشی مشکلات پہلے ہی زیر بحث ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی سے شمالی امریکہ کی سپلائی چین، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو مستقبل میں مزید تجارتی پابندیوں اور جوابی اقدامات کا امکان بھی موجود ہے۔

ٹیگز: #امریکہ #تجارتی جنگ #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں