مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532
عالمی

ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے، نہ لالچ: عباس عراقچی

📅 پیر، 20 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے، نہ لالچ: عباس عراقچی
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تہران (نمائندہ خصوصی)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ایران کو نہ تو دھمکیوں کے ذریعے جھکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ترغیب یا لالچ دے کر اس کے بنیادی مؤقف میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران کا افزودہ یورینیم کسی صورت فروخت نہیں کیا جائے گا اور ملک اپنے جوہری حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مون سون بارشیں اور دیگر جغرافیائی چیلنجز کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی کشیدگی برقرار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک موقف

اپنے ایک تفصیلی بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ سے قبل بعض فریقین نے مذاکرات کے دوران ایران کو مختلف پیشکشوں اور مراعات کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی، تاہم تہران نے اپنے قومی مفادات اور اصولی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ ملک پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پراعتماد ہو کر سامنے آیا ہے۔ ان کے بقول ایران نے ثابت کر دیا کہ وہ دباؤ، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں کے باوجود اپنے قومی مفادات کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ تنازع کے دوران دنیا کو اس حقیقت کا بھی بخوبی اندازہ ہو گیا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے، اور اس خطے میں ایران کا جغرافیائی اور تزویراتی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح پاکستان میں اسلام آباد میں صحت کی سہولیات کا نظام اپنی اہمیت رکھتا ہے، اسی طرح ایران کی تزویراتی پوزیشن عالمی معاملات میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ہمیشہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کوئی بھی مذاکرات صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان میں دھمکیوں، دباؤ اور یکطرفہ مطالبات کی بجائے احترام اور انصاف کو بنیاد بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جس طرح وزیراعظم شہباز شریف کی ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، اسی طرح ایران اپنی قومی ترجیحات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

آخر میں عباس عراقچی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو بین الاقوامی قوانین اور اپنے قومی مفادات کے مطابق جاری رکھے گا اور افزودہ یورینیم کے حوالے سے اس کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتا رہے گا۔

ٹیگز: #آبنائے ہرمز #ایران #جوہری پروگرام #خارجہ پالیسی #عباس عراقچی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں