شمالی افریقہ یورپ کے لیے نیا اور اہم گرین انرجی مرکز
برسلز (نمائندہ خصوصی)۔ یورپ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے شمالی افریقہ کو ایک نئے گرین انرجی مرکز میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ مراکش، الجزائر، تیونس اور مصر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے میگا سولر، ونڈ اور بیٹری انرجی اسٹوریج منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے آئندہ برسوں میں صاف توانائی ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (HVDC) زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے یورپ تک منتقل کی جائے گی۔ توانائی کے شعبے سے متعلق بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق روسی گیس پر انحصار میں کمی، توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور 2050 تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کے حصول کے لیے یورپی ممالک قابلِ تجدید توانائی کے بیرونی ذرائع پر تیزی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ شمالی افریقہ میں سال بھر وافر دھوپ، موزوں جغرافیہ اور نسبتاً کم لاگت پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نے اس خطے کو یورپ کے لیے ایک اسٹریٹجک توانائی شراکت دار بنا دیا ہے۔
مراکش کی اسٹریٹجک اہمیت اور توانائی تعاون
اس سلسلے میں مراکش نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں فرانس اور مراکش کے درمیان براہِ راست بجلی کے انٹرکنیکشن منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت مراکش میں پیدا ہونے والی شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی فرانس اور بعد ازاں یورپی گرڈ تک پہنچائی جائے گی، جس سے یورپ کو صاف، پائیدار اور کم لاگت توانائی میسر آئے گی۔
الجزائر، تیونس اور مصر کے میگا منصوبے
دوسری جانب یورپی یونین کے Medlink منصوبے کے تحت الجزائر اور تیونس میں تقریباً 10 گیگاواٹ صلاحیت کے سولر، ونڈ اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ منصوبے سالانہ تقریباً 30 ٹیراواٹ آور بجلی پیدا کریں گے، جبکہ شمالی افریقہ اور یورپ کے درمیان 4 گیگاواٹ اضافی بجلی کی ترسیلی صلاحیت بھی قائم کی جائے گی۔ مصر بھی اس نئی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ مصر سے یونان تک زیرِ سمندر بجلی کیبل بچھانے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کے ذریعے مصری قابلِ تجدید توانائی براہِ راست یورپی گرڈ میں شامل کی جا سکے گی۔ اسی طرح اٹلی اور تیونس کے درمیان بھی ڈی سی پاور انٹرکنیکشن منصوبہ شمالی افریقہ اور یورپ کے توانائی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔
مستقبل کے اثرات اور پاکستان کے لیے سبق
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے صرف بجلی کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یورپ کی توانائی سلامتی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور مستقبل کی معاشی پالیسی کا اہم ستون بن رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ان منصوبوں سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، توانائی کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا اور درآمدی تیل و گیس پر انحصار کم ہوگا۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی افریقہ میں جاری یہ پیش رفت پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک اہم مثال ہے۔ پاکستان کے بلوچستان، سندھ اور چولستان جیسے علاقوں میں بھی دنیا کے بہترین شمسی وسائل موجود ہیں۔ اگر یہاں جدید ٹرانسمیشن نیٹ ورک، بڑے پیمانے پر پاکستان میں سولر بیٹریوں کا استعمال، درآمدات میں 220 فیصد اضافہ کو یقینی بنایا جائے، تو ملک نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات کم لاگت پر پوری کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں علاقائی سطح پر بجلی برآمد کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی سطح پر موثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس طرح پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں، اسی طرح توانائی کے شعبے میں برآمدی صلاحیت پیدا کرنا ممکن ہے۔ مزید برآں، ایسی تکنیکی شراکت داریوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جیسے کہ وفاقی وزارتِ تعلیم اور نیسلے پاکستان کے مابین صحت مند شراکت داری کی طرز پر جدید توانائی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے کیے جائیں۔
