ملکہ کوہسار مری میں پہلی گرین الیکٹرک بس سروس کا آغاز

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مری: پنجاب حکومت نے ملکہ کوہسار مری میں بڑھتی ہوئی ٹریفک، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے پہلی گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ مری کے قدرتی حسن کو محفوظ بنانے، سیاحوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے کہ دیگر سائنسی پیش رفتوں کی اہمیت مسلمہ ہے، افریقہ کے گھنے جنگلات میں بندروں کی نئی نسل دریافت سائنسدانوں نے اہم سائنسی پیش رفت قرار دے دی، اسی طرح مری کا یہ منصوبہ بھی پائیدار ترقی کی ایک مثال ہے۔
گرین الیکٹرک بس سروس کا افتتاح
گرین الیکٹرک بس سروس کا افتتاح ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں حکومتی نمائندوں، ضلعی انتظامیہ، محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر حکام نے کہا کہ مری ملک کے اہم ترین سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح تفریح کی غرض سے آتے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد نے ٹریفک کے مسائل اور فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ ماضی میں کئی اہم سرکاری اقدامات کیے گئے جن میں پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا، اب ٹرانسپورٹ کے شعبے میں یہ نیا اقدام ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
منصوبے کے اہم مقاصد
حکام کے مطابق الیکٹرک بس سروس کے آغاز کا مقصد شہریوں اور سیاحوں کو محفوظ، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ نجی گاڑیوں پر انحصار کم ہو اور شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
جدید سہولیات سے آراستہ بسیں
محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق نئی الیکٹرک بسیں مکمل طور پر بجلی سے چلتی ہیں اور ان سے کسی قسم کا دھواں یا کاربن گیس خارج نہیں ہوتی، جس کے باعث فضائی آلودگی میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ بسوں کے انجن انتہائی کم شور پیدا کرتے ہیں، جس سے مری کے قدرتی اور پرسکون ماحول کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ بسوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے جن میں آرام دہ نشستیں، ایئر کنڈیشننگ، معذور افراد کے لیے خصوصی ریمپ، جدید حفاظتی نظام، موبائل چارجنگ پورٹس اور دیگر سہولیات شامل ہیں تاکہ مقامی شہریوں اور سیاحوں کو عالمی معیار کی سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ یہ سہولیات بالکل اسی طرح جدید ہیں جیسے حال ہی میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا نوجوانوں پر مبنی جامع مصنوعی ذہانت ویژن پیش کیا گیا تھا۔
روٹس اور انتظامی امور
انتظامیہ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں الیکٹرک بسیں مری کے مختلف اہم مقامات اور سیاحتی مراکز کے درمیان چلائی جائیں گی۔ ان روٹس میں مال روڈ، جی پی او چوک، مری ایکسپریس وے سے ملحقہ علاقے اور دیگر اہم مقامات شامل ہیں، جبکہ مستقبل میں اس سروس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ سیاح اپنی نجی گاڑیاں مخصوص پارکنگ ایریاز میں کھڑی کر کے الیکٹرک بسوں کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔
ماحولیاتی اور معاشی اثرات
سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مری میں ٹریفک کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔ ماحولیاتی ماہرین نے بھی اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں فضائی آلودگی اور شور میں کمی کے لیے ماحول دوست ٹرانسپورٹ ناگزیر ہے۔
مستقبل کے منصوبے
حکام کے مطابق اگر مری میں یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوا تو آئندہ مرحلے میں اس طرز کی الیکٹرک بس سروس کو نتھیا گلی، ایوبیہ اور دیگر سیاحتی علاقوں تک بھی توسیع دینے پر غور کیا جائے گا۔ سیاحتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مری میں گرین الیکٹرک بس سروس کا آغاز ملک میں پائیدار اور ماحول دوست سفری نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں سیاحت، معیشت اور ماحول تینوں شعبوں پر مرتب ہوں گے۔
