مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,532
عالمی

آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، امریکہ اور ایران میں تناؤ اضافہ

📅 جمعرات، 16 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، امریکہ اور ایران میں تناؤ اضافہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت کے مستقبل سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دفاعی اور سفارتی حلقوں کے مطابق حالیہ امریکی عسکری سرگرمیوں کا مرکز ایران کے بڑے شہروں کے بجائے وہ ساحلی علاقے اور بحری تنصیبات ہیں جو آبنائے ہرمز سے منسلک ہیں۔

امریکی حکمتِ عملی اور ایران کے ردعمل

عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ایران کی ان بحری اور دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی ساحلی علاقوں، بحری اڈوں اور دفاعی تنصیبات پر توجہ مرکوز کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے متعدد عسکری تفصیلات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں اس طرح کی بحری تنصیبات پر توجہ کی مثالیں افریقہ کے گھنے جنگلات میں بندروں کی نئی نسل دریافت جیسی سائنسی پیش رفت کی طرح سنسنی خیز سمجھی جاتی ہیں، تاہم یہاں معاملہ براہ راست قومی سلامتی کا ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات اور خدشات

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر برآمد ہونے والے خام تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، بحری انشورنس، مال برداری اور سرمایہ کاری پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ، شپنگ اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان کی معاشی صورتحال میں پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر رعایتی آئل فنانسنگ کی درخواست جیسے اقدامات اہم رہے ہیں، اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا تغیر براہ راست ہمارے درآمدی بل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

سفارتی کوششیں اور بحری تحفظ

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خلیجی پانیوں میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ اور تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کی قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری سے جڑا ہوا معاملہ ہے، جس پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی خودمختاری یا بحری مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں اور بین الاقوامی تجارتی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ اس تناظر میں خطے کے کئی ممالک اپنی ملکی اثاثوں کی منتقلی پر بھی غور کر رہے ہیں جیسا کہ ماضی میں پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل کرنے کا عمل ایک بڑی معاشی تبدیلی سمجھا گیا تھا۔ بحری تجارت سے وابستہ کمپنیوں نے بھی خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اضافی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ کئی بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستوں اور انشورنس پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں روایتی زمینی محاذ آرائی کے بجائے بحری راستوں، تیل کی ترسیل اور معاشی دباؤ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

ٹیگز: #آبنائے ہرمز #امریکہ #ایران #عالمی معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں