مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,655 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,655
کھیل

ارجنٹائن انگلینڈ میچ کے بعد مالویناس تنازع پر فیفا ایکشن کا امکان

📅 جمعرات، 16 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
ارجنٹائن انگلینڈ میچ کے بعد مالویناس تنازع پر فیفا ایکشن کا امکان
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن / بیونس آئرس (نمائندہ خصوصی)۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی انگلینڈ کے خلاف کامیابی کے بعد ایک مرتبہ پھر کھیل اور سیاست کے باہمی تعلق پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ میچ کے اختتام پر ارجنٹائن کے چند کھلاڑیوں کی جانب سے ’’Las Malvinas son Argentinas‘‘ (مالویناس ارجنٹائن کا ہے) درج بینر تھامنے کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ کھیلوں کے مبصرین فیفا کی ممکنہ کارروائی پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں 2-1 سے کامیابی کے بعد ارجنٹائن کے بعض کھلاڑی، جن میں نکولس اوٹامینڈی اور جیووانی لو سیلسو بھی شامل تھے، جشن کے دوران تماشائیوں کی جانب سے دیا گیا ایک بینر اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر ’’Las Malvinas son Argentinas‘‘ درج تھا۔ یہ نعرہ برطانیہ کے زیرِ انتظام فاک لینڈ جزائر، جنہیں ارجنٹائن ’’مالویناس‘‘ کہتا ہے، پر ارجنٹائن کے دیرینہ دعوے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ پاسدارانِ انقلاب کی مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی روکنے کی دھمکی کے تناظر میں عالمی سیاست میں کشیدگی بڑھی ہے، اسی طرح کھیلوں کے میدان میں بھی سیاست کی مداخلت نے حساسیت پیدا کر دی ہے۔

اس واقعے کے بعد بین الاقوامی کھیلوں کے حلقوں میں یہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث ہے کہ آیا فیفا اس معاملے کا نوٹس لے گا یا نہیں۔ فیفا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کھیل کے میدان میں سیاسی، مذہبی یا اشتعال انگیز پیغامات کی تشہیر کی اجازت نہیں، اور ماضی میں بھی اس نوعیت کے معاملات پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے پی ٹی اے نے موبائل آپریٹرز پر 74 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا، ادارے اپنے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ارجنٹائن کی ٹیم ’’مالویناس‘‘ کے معاملے پر خبروں میں آئی ہو۔ 2014 کے فیفا ورلڈ کپ سے قبل ارجنٹائن کی قومی ٹیم نے سلووینیا کے خلاف ایک دوستانہ میچ سے پہلے ٹیم فوٹو کے دوران ایسا ہی بینر اٹھایا تھا، جس پر ’’Las Malvinas son Argentinas‘‘ درج تھا۔ اس اقدام پر برطانیہ کی جانب سے اعتراض سامنے آیا، جس کے بعد فیفا نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن پر 30 ہزار سوئس فرانک جرمانہ عائد کیا تھا اور مستقبل میں ایسے اقدامات سے گریز کی ہدایت دی تھی۔

فاک لینڈ یا مالویناس جزائر جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع ہیں اور کئی دہائیوں سے برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان تنازع کا باعث ہیں۔ برطانیہ ان جزائر کو ’’فاک لینڈ آئی لینڈز‘‘ جبکہ ارجنٹائن انہیں ’’جزائر مالویناس‘‘ قرار دیتا ہے۔ 1982 میں دونوں ممالک کے درمیان ان جزائر کی ملکیت پر مختصر مگر خونریز جنگ بھی لڑی گئی تھی، جس میں برطانیہ نے کنٹرول برقرار رکھا۔ اس جنگ کی یاد آج بھی دونوں ممالک کے عوام اور سیاسی حلقوں میں حساس موضوع سمجھی جاتی ہے۔

کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان فٹ بال مقابلے ہمیشہ تاریخی پس منظر کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ 1986 کے ورلڈ کپ میں ڈیاگو میراڈونا کے مشہور ’’ہینڈ آف گاڈ‘‘ گول اور بعد ازاں ’’گول آف دی سنچری‘‘ کو بھی کئی حلقوں نے اس تاریخی رقابت کے تناظر میں دیکھا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ہر بڑا مقابلہ غیر معمولی توجہ حاصل کرتا ہے۔ حال ہی میں جیسے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نوجوانوں پر مبنی جامع مصنوعی ذہانت ویژن پیش کیا گیا، اسی طرح فٹ بال کے میدان بھی اب جدید عالمی سفارتکاری کے نئے محاذ بن چکے ہیں۔

حالیہ سیمی فائنل سے قبل بھی ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، جن میں قومی جذبے پر مبنی نغمے گائے جا رہے تھے۔ اسی طرح بعض سیاسی شخصیات کے بیانات نے بھی اس معاملے کو مزید نمایاں کیا، جس کے بعد کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے سے متعلق بحث دوبارہ زور پکڑ گئی۔

میچ کے بعد ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ فاک لینڈ جنگ ارجنٹائن کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے اور ملک اپنے شہداء کا احترام کرتا ہے، تاہم ان کے بقول فٹ بال کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے اور کھیل کا مقصد قوموں کو قریب لانا ہے، نہ کہ نئے تنازعات کو جنم دینا۔

اب عالمی کھیلوں کے حلقوں کی توجہ فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی پر مرکوز ہے۔ اگر فیفا اس معاملے کو اپنے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے تو ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن کے خلاف جرمانہ یا دیگر تادیبی کارروائی زیرِ غور آ سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی ممکنہ کارروائی سے متعلق حتمی فیصلہ فیفا کی جانب سے باضابطہ تحقیقات اور ضابطہ کار کے مطابق ہی سامنے آئے گا۔

اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا کھیل کے میدان کو سیاسی پیغامات کے اظہار کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے یا کھیل کو ہر صورت سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ فیفا کے آئندہ فیصلے پر نہ صرف ارجنٹائن اور انگلینڈ بلکہ دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی نظریں مرکوز ہیں۔

ٹیگز: #ارجنٹائن #انگلینڈ #فاک لینڈ جزائر #فٹ بال تنازع
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں