او آئی سی وزارتی کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں او آئی سی کی خواتین کے امور پر نویں وزارتی کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی ہے جس کے بعد تنظیم کی سربراہی پاکستان کو منتقل ہو گئی ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ ایک اہم ذمہ داری بھی ہے کہ اب پاکستان تمام رکن ریاستوں کے تعاون سے مسلم خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔
کانفرنس کے مقاصد اور عزم کا اعادہ
وہ پیر کو او آئی سی کی خواتین کے امور پر منعقدہ نویں وزارتی کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق، سیکرٹری وزارت انسانی حقوق عبدالخالق شیخ اور اسسٹنٹ سیکرٹری او آئی سی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والی مشاورت اور سفارشات کو رکن ممالک نے متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس سے اسلام آباد او آئی سی کانفرنس: مسلم خواتین کی بااختیاری کا امتحان کا عزم مزید مستحکم ہوا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور خواتین کی بااختیاری
وفاقی وزیر نے کہا کہ کانفرنس میں جدید ٹیکنالوجی، اختراع اور ڈیجیٹل مواقع سے خواتین کو مستفید کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ رکن ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائیں گے کہ خواتین جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی، اپنے خاندان اور اپنے ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرپرستی اور رہنمائی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عوام اس کامیاب بین الاقوامی ایونٹ کے انعقاد پر مبارکباد کی مستحق ہے۔
مشترکہ کوششیں اور مستقبل کا لائحہ عمل
اعظم نذیر تارڑ نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وزارت انسانی حقوق، وزارت خارجہ، وزارت قانون، وزارت اطلاعات و نشریات، اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اپنی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک کے تعاون سے مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ، ان کی ترقی اور بہتر مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرے گا۔
