اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس: خواتین کی ترقی پر زور

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی مندوبین نے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مستحکم کرنے اور تعلیم، معاشی ترقی اور قیادت کے میدانوں میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس پالیسیوں کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی اسلامی دنیا میں جامع ترقی اور طویل مدتی خوشحالی کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ کانفرنس درحقیقت اسلام آباد او آئی سی کانفرنس: مسلم خواتین کی بااختیاری کا امتحان کا تسلسل ہے، جس میں خطے کی ترقی کے لیے خواتین کے کلیدی کردار کو سراہا گیا ہے۔
کانفرنس سے خطاب اور اہم نکات
نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے تنظیم کی انتھک کوششوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
خواتین سے متعلق آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ کانفرنس کے بعد ہونے والی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مضبوط باہمی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ میں پائیدار ترقی کے لیے خواتین کا کلیدی کردار انتہائی اہم ہے۔
خواتین کو بااختیار بنانا ایک سٹریٹجک ضرورت
مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوموں کی اصل خوشحالی کا انحصار ان کے عوام، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور سماجی استحکام کے حصول کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا اب ایک سٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔ یہ موضوعات بھارت میں بڑھتا تعصب، انسانی حقوق کا بحران اور جمہوریت پر اٹھتے سوالات جیسے عالمی مسائل کے تناظر میں بھی انتہائی اہم ہیں جہاں سماجی انصاف اور حقوق کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کا حل تعلیم یافتہ اور بااختیار خواتین میں پنہاں ہے، اور جیسے کہ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے چکی پیسنے کے باعث ہاتھوں میں پہنچنے والی تکلیف کا اظہار کیا، اسلام نے تاریخ میں بھی خواتین کی محنت اور ان کے کردار کو ہمیشہ تسلیم کیا ہے۔
