آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کے درمیان نیا سفارتی تنازع

واشنگٹن/تہران (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنا اور عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا تھا، تاہم معاہدے کی ایک اہم شق کی مختلف تشریحات نے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے، جس کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو مرتبہ پرتشدد واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔
تنازع کی بنیادی وجہ: معاہدے کی شق نمبر 5
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس تنازع کی بنیادی وجہ معاہدے کی شق نمبر 5 ہے، جس میں ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے، محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے اور بعد ازاں عمان کے ساتھ مل کر اس اہم آبی راستے کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر مشاورت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ معاہدے کے مطابق ایران نے یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ وہ بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت میں حائل تمام فوجی رکاوٹیں، بشمول سمندری بارودی سرنگیں (Sea Mines)، ہٹانے کے لیے اقدامات کرے گا تاکہ عالمی تجارت معمول پر آ سکے۔
امریکی اور ایرانی موقف میں تضاد
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس شق کو معاہدے کا سب سے اہم حصہ سمجھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بین الاقوامی تجارت کے لیے کھولنے کی راہ ہموار ہونی تھی، جس سے نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی بہتر ہوتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام ملتا۔ دوسری جانب ایرانی سخت گیر حلقوں نے اسی شق کی مختلف تشریح پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور انتظامی معاملات کا اختیار صرف ایران کے پاس ہونا چاہیے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا کنٹرول اس کی قومی سلامتی اور خطے میں اس کے اسٹریٹجک اثرورسوخ کے لیے ناگزیر ہے۔
عالمی معیشت اور خطے کا مستقبل
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قدامت پسند رہنما آبنائے ہرمز کو مغربی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے ایک مؤثر سفارتی اور اقتصادی ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ امریکا اس آبی راستے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام ممالک کے لیے کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاہدے کی مختلف تشریحات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور خطے میں دو مرتبہ پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ وفاقی حکومت کا ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل انقلاب کا اعلان کے برعکس، خطے میں جاری یہ کشیدگی تشویشناک ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار روزانہ مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا عدم استحکام عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
سفارتی کوششوں کی ضرورت
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران معاہدے کی متنازع شق پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب عالمی برادری اور خلیجی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں فریق سفارتی مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے کے امن کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حل تلاش کریں گے، جیسا کہ اسلام آباد میں عالمی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر شروع جیسے بڑے منصوبوں کے لیے پرامن فضا درکار ہوتی ہے۔
