مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
عالمی

وفاقی وزیر اویس لغاری: پاکستان، روس تعلقات میں تجارت و توانائی کے وسیع مواقع

📅 جمعرات، 09 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 7 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (اے پی پی)۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس میں تجارت، توانائی، تعلیم و سرمایہ کاری میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تجارت، توانائی اور سرمایہ کاری پر مشتمل کثیر الجہتی شراکت داری میں تبدیل ہونا چاہیے۔ پاکستان اور روس کے درمیان بارٹر ٹریڈ کا فریم ورک تجارتی تعاون میں ایک اہم پیشرفت ہے، جبکہ تجارتی راہداریوں، لاجسٹکس اور مضبوط سپلائی چینز سے علاقائی تجارت کو نئی جہت مل سکتی ہے۔ پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کا بنیادی ستون توانائی ہے، اور پاک روس تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور دیرینہ تعاون پر استوار ہیں۔

یہ خیالات وفاقی وزیر نے جمعرات کو یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو (یو ڈبلیو سی ایم) اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد کے زیر اہتمام پاکستان-روس تجارت، تعلیم اور توانائی میں تعاون کے فروغ کے عنوان سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تعاون کے وسیع مواقع

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور علاقائی استحکام کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر مثبت انداز میں آگے بڑھے ہیں۔ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم اور رابطہ کاری کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ مضبوط اقتصادی تعاون اور بہتر ٹرانسپورٹ روابط کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت آئندہ برسوں میں بلین ڈالر سے تجاوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب جغرافیائی سیاسی عوامل سے بالاتر ہو چکے ہیں اور پاکستان و روس اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کو امن، سلامتی اور تعاون کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ یوریشیائی رابطہ کاری اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے وسطی ایشیا کے ذریعے تاریخی زمینی راستوں اور انٹرنیشنل نارتھ-ساﺅتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کی بحالی کو پاکستان اور روس کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

تجارتی روابط اور چیلنجز

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 243.412 ملین ڈالر رہا جو اس کی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔ مالی سال 2024 میں تجارت ایک بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی تاہم بعد ازاں ادائیگی کے نظام، بینکاری ذرائع، مالیاتی انتظامات اور شپنگ لاجسٹکس سے متعلق چیلنجوں کی وجہ سے اس میں کمی آئی۔ وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان 2030ء تک اقتصادی تعاون کا پروگرام دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔

علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے

علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بیلاروس، روس، قازقستان، ازبکستان، افغانستان-پاکستان ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور جون 2024 میں روس کے ساتھ ریلوے تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ ریل لنک کے قیام سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کوئٹہ-تفتان ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں موجود نہیں تاہم دونوں ممالک جلد ان کی بحالی کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، اور ہماری فضائی کمپنیاں بالخصوص کارگو پروازوں کے لیے کوڈ شیئرنگ اور ٹرانزٹ روٹس کے انتظامات کا جائزہ لے سکتی ہیں۔

توانائی کے شعبے میں تعاون

توانائی کے شعبے میں تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی پیدا کرنے والے بڑے عالمی ملک کی حیثیت سے روس پاکستان کے لیے تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روسی توانائی کمپنی زاروبزنیفٹ نے فروری 2025 میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جبکہ اگست 2025 سے پاکستان میں اس کی آپریشنل موجودگی تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے گیس کے شعبے، ایل این جی کی فراہمی اور مربوط گیس منصوبوں میں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے نوواٹیک کی دلچسپی کا بھی خیرمقدم کیا جبکہ روس ہائیڈرو گروپ کی جانب سے پاکستان انجینئرنگ شراکت دار بننے کی دلچسپی کو بھی مثبت قرار دیا۔ سردار اویس احمد خان لغاری نے پاکستان سٹیل ملز کی بحالی کو پاکستان اور روس کی تاریخی شراکت داری کا ایک نمایاں منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیاب تکمیل دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور اقتصادی تعاون کی علامت ہوگی۔

تعلیمی تعاون اور عوامی روابط

تعلیمی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً ایک ہزار 87 پاکستانی طلبہ روس کی جامعات اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کے لیے روسی سکالرشپ پروگراموں کو سراہتے ہوئے خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعلیمی مواقع بڑھانے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان اور روس کے درمیان ری ایڈمیشن معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عوامی روابط کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا اور کاروباری شخصیات، طلبہ اور سیاحوں کے لیے ویزا نظام کو مزید سہل بنانے پر بھی زور دیا۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ ویبینار سے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات کی توثیق ہوئی ہے اور انہیں یقین ہے کہ مسلسل رابطے اور مکالمے سے یہ تعاون عملی نتائج کی صورت میں سامنے آئے گا۔

ٹیگز: #اقتصادی تعاون #پاکستان روس تعلقات #توانائی کے شعبے میں تعاون #وفاقی وزیر توانائی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں